دہشتگرد حملے کا ردعمل:ترکیہ کی عراق اور شام میں کرد عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری
ترکیہ کا جواب: کرد عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری
انقرہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) انقرہ میں دفاعی کمپنی کے ہیڈ کوارٹر پر حملے کے ردعمل میں ترکیہ نے عراق اور شام میں کرد عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کردی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان پر بھارتی میزائل حملے، چین نے ردعمل جاری کردیا
جوابی کارروائی کی تفصیلات
ترک میڈیا کے مطابق، ترکیہ کی جوابی کارروائی میں کرد عسکریت پسندوں کے 30 اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریورس فائلنگ کا طریقہ کار نہ ہونے پر انڈسٹری پریشان، بغیر مشاورت سسٹم لاگو کرنا ناقابل قبول ہے، احمد عظیم علوی
حملے کی تحقیقات
دفاعی کمپنی کے ہیڈ کوارٹر پر حملے میں کردستان ورکرز پارٹی (PKK) کے اراکین کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا۔ ترک وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ انقرہ حملے میں ملوث دہشتگردوں کی شناخت کی کوشش جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا بیوی پرانی ہو جائے تو نئی شادی کا جواز بن جاتا ہے؟لاہور ہائیکورٹ کا بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنے پر شہری کی سزا و جرمانہ برقراررکھنے کا حکم
حملے کی منظر کشی
حملے کی سی سی ٹی وی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسلح مرد اور خاتون ترکیہ کی ایئروسپیس انڈسٹریز کے ہیڈ کوارٹر میں داخل ہوئے اور فائرنگ کردی۔ عمارت سے دھماکے کی آواز بھی سنائی دی گئی تھی۔ دعویٰ کیا گیا تھا کہ مسلح افراد کے داخل ہونے سے پہلے عمارت کے دروازے پر خودکش حملہ کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: یومیہ الاؤنس میں اضافے کے مطالبے پر 35 پولیس اہلکار معطل
ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد
ترکیہ کے وزیر داخلہ علی یارلیکایا کا کہنا ہے کہ حملہ آور ایک خاتون اور مرد کو مار دیا گیا ہے۔ دہشتگردوں کے حملے میں پانچ افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 3 کی حالت تشویشناک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آندھی اور بارش کے سبب قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع، وزیر اعلیٰ مریم نواز کا پی ڈی ایم اے کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم
متاثرہ افراد کی معلومات
ترک میڈیا کے مطابق جاں بحق افراد میں کمپنی میں کوالٹی کنٹرول کا افسر، مکینیکل انجینئر، ملازم، سکیورٹی گارڈ اور ٹیکسی ڈرائیور شامل ہیں۔
حملے کا وقت اور پس منظر
حملہ ایسے وقت کیا گیا جب سکیورٹی اہلکاروں کی ڈیوٹی تبدیل ہوئی تھی اور حملہ آور ٹیکسی میں سوار ہو کر آئے تھے۔ ترک میڈیا کے مطابق یہ حملہ ایسے وقت کیا گیا جب نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی کے لیڈر نے دعویٰ کیا تھا کہ پی کے کے کے مقید سربراہ عبداللہ اوجلان ممکنہ طور پر ایک پارلیمانی ایونٹ میں شرکت کرنے والے ہیں، جس میں وہ دہشتگردی ختم کرنے کا اعلان کریں گے۔








