26ویں آئینی ترمیم کا کام کسی اور چیف جسٹس کی موجودگی میں ممکن نہیں تھا، بلاول بھٹو کا برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو

بلاول بھٹو کا اظہار خیال
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کا کام کسی اور چیف جسٹس کی موجودگی میں ممکن نہیں تھا، اور یہ کہ 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری مولانا فضل الرحمان کی حمایت کے بغیر بھی ہو سکتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں الیکٹرک کاروں کی اسمبلی شروع، مگر چیلنجز برقرار: سیرس تھری کی تیاری میں مشکلات کی وجوہات کیا ہیں؟
آئینی ترمیم کی منظوری
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق، بلاول بھٹو نے برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ آئینی ترمیم کی منظوری کے لئے ہمارے پاس نمبر پورے تھے۔ 26ویں آئینی ترمیم پارلیمان میں منظور کی گئی، اور اس کے تحت نئے چیف جسٹس کو تعینات کیا جا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر سندھ کا 24 دسمبر کو مہاجر کلچر ڈے منانے کا اعلان
اہم وقت کی حیثیت
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 25 اکتوبر سے پہلے 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری ایک بڑا کام تھا۔ یہ کام کسی دوسرے چیف جسٹس کی موجودگی میں ممکن نہیں تھا۔ 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملہ ہوا، اور حکومت ذمہ داروں کا ٹرائل کرنا چاہتی تھی، لیکن عدالت آئین کی تشریح کرتے ہوئے حکومتی فیصلے کے راستے میں رکاوٹ بنی۔
پیپلزپارٹی کا موقف
چیئرمین پیپلزپارٹی نے مزید کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری مولانا فضل الرحمان کی حمایت کے بغیر بھی ممکن تھی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی مدد کے بغیر بھی ہمارے نمبر پورے تھے۔ ہم اپنی مرضی کا آئین بنا سکتے تھے، لیکن پیپلزپارٹی کا طریقہ کار یہ ہے کہ اگر ہمیں میثاق جمہوریت کا وعدہ پورا کرنا ہے تو میں زور زبردستی کا ووٹ نہیں چاہتا۔ جو اختیارات آئینی عدالت کو ملنے تھے، وہ تو آئینی بنچ کو مل گئے۔