ایس سی او سمٹ، روشن مستقبل کی طرف پیش رفت

تحریر: زینب وحید

ایس سی او سمٹ کا اثر

ایس سی او سمٹ ٹویٹر پر ٹرینڈ کر رہی ہے، ریجن کیلئے اچھی پیش رفت ہے۔ اگر یہ درست ہے تو تمہیں مبارک ہو۔ تمہارا ملک تو اچھی سمت جا رہا ہے۔ کاش ہم مل کر چلیں تاکہ خطے کی خوشحالی اور سیکیورٹی جیسے چیلنجز کا مقابلہ کر سکیں۔ یہ جذبات ابھیمنو کے تھے، جو کالج میں مجھ سے ایک سال سینئر ہے۔

سردیوں کی آمد

امریکی ریاست منی سوٹا میں موسم سرما کا آغاز ہو گیا ہے اور سورج دن بھر بادلوں کے پیچھے چھپا رہتا ہے۔ 17 اکتوبر کو کچھ دھوپ نکلی تو میں نے سوچا کہ دھوپ میں بیٹھ کر امتحانات کی تیاری کر لوں۔ اسی وقت ابھیمنو وہاں سے گزرا۔

سوالات اور جوابات

ابھیمنو نے اپنے موبائل پر ایکس کے ٹرینڈز دیکھ کر مجھے ایس سی او سمٹ کے بارے میں سوالات کیے۔ اس نے پوچھا کہ کیوں نہیں پاکستان اور بھارت بھی ترقی کر سکتے؟ اور کیوں ہم لڑائی جھگڑے ختم نہیں کرسکتے؟ میں نے لیپ ٹاپ میں گوگل سرچ کی اور ایس سی او کانفرنس کے اعلامیہ کے ذریعے اس کے سوالات کے جواب دیے۔

کانفرنس کی کامیابی

اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس کو زبردست کامیابی ملی ہے۔ خطے کی عوام کی فلاح و بہبود، تعلیم و تربیت اور علم و ہنر جیسے معاملات پر مل کر آگے بڑھنے کا عزم جان لیوا ہے۔ پاکستان کیلئے یہ ایک تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوا ہے۔

اقتصادی تعاون

ایس سی او کے رکن ممالک نے مستحکم ترقی کیلئے کثیرالجہتی تجارتی نظام کو ناگزیر قرار دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مشترکہ کرنسی کا استعمال اور بینکنگ چیلنجز کے حل کیلئے ایس سی او انٹربینک یونین فورم کے قیام کی تجاویز پیش کی ہیں۔

خطے کی اہمیت

ایس سی او ریجن کی جغرافیائی حیثیت دنیا کی سب سے بڑی تنظیم کا ہے۔ اگر رکن ممالک اعلامیہ میں متفقہ اقدام پر عمل کریں تو یہ خطہ ترقی کا گہوارہ بن سکتا ہے۔

چین کا نقطہ نظر

چین بھی ایس سی او سمٹ کو پاکستان کے لئے اطمینان بخش سمجھتا ہے۔ چینی وزیر اعظم کے دورے کا مقصد دو طرفہ تعاون کو بڑھانا ہے۔

نئی راہیں

کانفرنس میں موجود سیاسی عزائم اگر صدق دل سے عمل کیا جائے تو پورے خطے کے عوام کی زندگی میں بہتری لا سکتے ہیں۔

پیشرو کی حیثیت

شنگھائی تعاون کانفرنس نے ثابت کیا ہے کہ پاکستانی قوم امن و خوشحالی پر یقین رکھتی ہے۔ الحمدللّٰہ، وہ مشکل وقت گزر چکا ہے۔ اب برکس کا رکن بننے کی ضرورت ہے۔

جب اپنا قافلہ عزم و یقین سے نکلے گا
جہاں سے چاہیں گے، رستہ وہیں سے نکلے گا
وطن کی مٹی! مجھے ایڑیاں رگڑنے دے
مجھے یقین ہے کہ چشمہ یہیں سے نکلے گا

تعارف مصنفہ

زینب وحید امریکا میں "کارلٹن کالج" کی اسٹوڈنٹ ہیں۔ وہ کلائمٹ ایکٹوسٹ، جرنلسٹ، اور سوشل میڈیا کے مواد کی تخلیق کار ہیں۔ انہیں پاکستان میں "کلائمٹ ہیرو" کے طور پر جانا جاتا ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مصنفہ کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Categories: بلاگ

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...