ہمیں نامزد چیف جسٹس سے نہیں، آئینی ترمیم کی منظوری کے طریقہ کار سے مسئلہ ہے، علی محمد خان
علی محمد خان کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان نے کہا ہے کہ ہمیں جسٹس یحییٰ آفریدی کی تعیناتی سے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ حکومت کی جانب سے آئینی ترامیم جس طرح سے کی گئیں اس پر ہمارا اعتراض ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ سے کوئی بھی جج استعفیٰ دینے کو تیار نہیں، میاں داؤد ایڈووکیٹ
چیف جسٹس کی تعیناتی پر خیالات
ایکسپریس نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے علی محمد خان کا کہنا تھا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی کا چیف جسٹس بننا ہمارے صوبے خیبر پختونخوا کے لیے فخر کی بات ہے، ہم اُمید کرتے ہیں کہ نئے چیف جسٹس انصاف کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت، وزیراعظم اور وزیر داخلہ کا بھارتی حمایت یافتہ 30خوارج کو جہنم واصل کرنے پر فورسز کو خراج تحسین
آئینی ترامیم کے اثرات
ان کا کہنا تھا کہ جس طرح سے آئینی ترامیم کی گئیں اس سے سپریم کورٹ کی طاقت کو کم کیا گیا ہے، ہم ججز اور وکلاء سے اپیل کرتے ہیں کہ عدلیہ کو مضبوط کریں۔ عدلیہ کمزور ہو تو ملک ایک بنا ری پبلک بن جاتا ہے۔
بشری بی بی کی رہائی پر وضاحت
رہنما پی ٹی آئی علی محمد خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشری بی بی کو کسی ڈیل کی وجہ سے رہائی نہیں ملی، ہم ڈیل کے الزامات کو یکسر رد کرتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بشری بی بی ایک گھریلو خاتون ہیں، ان کی رہائی میں بھلا کیا ڈیل ہو سکتی ہے؟ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم امید کر رہے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ کی بھی رہائی ہو۔








