قیدی وینز پر حملہ پولیس نے خود کروایا ہے، شیخ وقاص اکرم
پی ٹی آئی رہنما کا الزام
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پی ٹی آئی رہنما شیخ وقاص اکرم نے الزام لگایا ہے کہ قیدی وینز پر حملہ پولیس نے خود کروایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: منگل اور بدھ کی رات دریائے سندھ میں سیلاب کا خدشہ، انتظامیہ کو متحرک رہنے کی ہدایت جاری
حملے کی تفصیلات
اے آر وائی نیوز کے مطابق اسلام آباد میں پولیس وینز پر حملے سے متعلق شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ ہمارے ورکرز کی ضمانت ہوگئی تھی لیکن دوسرے مقدمے میں گرفتاری ڈالی جارہی ہے۔ پولیس کارکنان کو اٹک جیل منتقل کررہی تھی، کہ پولیس نے فیصل ٹاؤن کے قریب گاڑیاں موڑ کر خود کارروائی کی۔
یہ بھی پڑھیں: ججز تبادلوں کے خلاف کیس؛ وفاقی حکومت نے تفصیلات اور ریکارڈ سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا
قیدی وینز کی حالت
شیخ وقاص اکرم نے الزام عائد کیا کہ قیدی وینز کھڑی کرکے متعلقہ ایس ایچ او شبیر تنولی نے وین کا شیشہ توڑا اور ہمارے کارکنان کو کہا گیا کہ یہاں سے فرار ہوجاؤ۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں تعلیمی بورڈز کے سالانہ امتحانات کا شیڈول جاری
فرار کی کوششیں
پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ ہمارے کارکنان فرار ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا گندم، آٹا اور روٹی کے نرخ برقرار رکھنے کے لئے سخت اقدامات کا فیصلہ
حملے کی نوعیت
واضح رہے کہ سنگجانی ٹول پلازہ پر نامعلوم افراد نے دہشتگردی کے مقدمات میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ملزمان کی قیدی وینز پر حملہ کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: گھروں اور اسٹیشنوں کی بھوت بنگلہ نما عمارتیں: ماضی کی داستانیں
پولیس کی کارروائی
آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے بتایا کہ سنگجانی ٹول پلازہ کے قریب 3 قیدی وینز پر حملہ کیا گیا، تاہم پولیس نے قیدیوں کو فرار کروانے کی کوشش ناکام بنا دی، تمام قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سلمیٰ بٹ کا میانوالی کا دورہ، ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ ماڈل بازاروں کا دورہ، شہریوں سے گفتگو
حملے کے ملزمان
سید علی ناصر رضوی نے بتایا کہ حملے کے بعد کچھ قیدی وین سے فرار ہوئے تھے، گاڑیوں پر حملہ کرنے والے ملزمان کی تعداد 18 سے 20 تھی، حملہ آوروں میں وزیر بہبود آبادی خیبر پختونخوا کا بیٹا بھی شامل ہے۔
گرفتاریاں
انہوں نے بتایا کہ 3 قیدی وینز میں 82 ملزمان موجود تھے جنہیں پیشی کے بعد اٹک منتقل کیا جا رہا تھا، حملے میں ملوث 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔








