لاش کو حنوط کرتے وقت آخری مرحلے میں مردے کی مالی حیثیت کے مطابق پٹیوں میں طلائی زیورات قیمتی پتھر یا ہیرے جواہرات بھی رکھے جاتے تھے
مصنف کی تعارف
مصنف: محمد سعید جاوید
قسط: 41
یہ بھی پڑھیں: زرمبادلہ کے ذخائر میں 8 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا اضافہ
حنوط کرنے کے طریقے
یہ موضوع چونکہ شروع ہی سے میرے لیے باعث کشش تھا، اس لیے میں نے عبدو کو کہا کہ وہ چند لمحے وہاں ٹھہر کر مجھے تفصیل سے بتائے کہ اس وقت ممی بنانے کا کیا طریقہ رائج تھا اور اس عمل کو کتنا وقت لگتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (ہفتے) کا دن کیسا رہے گا؟
لاش کا جھرمٹ
جب کوئی شخص مر جاتا تھا تو گھر میں اس کی موت کی مروجہ رسومات کے مکمل ہونے کے بعد اس کی لاش کو اس مرکزی معبد میں لا کر بڑے پجاری کے حوالے کر دیا جاتا تھا جو اسے اس چبوترے پر لٹا کر حنوط کرنے کے عمل کا آغاز کرتا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں پولیس اہلکار پانچ ماہ تک خاتون ڈاکٹر کو زیادتی کا نشانہ بناتا رہا
اجزاء کی حفاظت
چونکہ ان کا ایمان تھا کہ یہ مرے ہوئے لوگ ایک بار پھر سے زندہ ہوں گے اس لیے ان کے جسم کے سارے اعضاء کو بھی نکال کر محفوظ کر لیا جاتا تھا۔ سب سے پہلے مردے کے بائیں پہلو میں شگاف لگا کر جسم سے نسبتاً جلد خراب ہونے والے نرم اجزاء جیسے معدہ، انتڑیاں، جگر، دل اور پھیپھڑے نکال لیتے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت 28 اور 10 مئی کے دن کو کبھی نہیں بھولے گا: عظمیٰ بخاری
دماغ کا نکالنا
پھر ایک مخصوص آلے سے ناک کے ذریعے اس کے دماغ کو بھی ایک خاص ترکیب سے باہر کھینچ لیتے تھے۔ ان کے نزدیک یہ ایک غیرضروری چیز تھی، جس کو حنوط کرنا ضروری نہیں تھا۔ اس لیے وہ اس کو ضائع کر دیتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سیشن کورٹ لاہور کا جناح ہسپتال کے ڈاکٹر کو ریپ کیس میں 14 سال سزا کا حکم
پجاریوں کا عمل
لاش کی چیرپھاڑ کرنے والے پجاری اپنے چہرے پر ایسے نقاب چڑھائے رکھتے جن پر مختلف جانوروں کی شکلیں بنی ہوتی تھیں تاکہ مردے کی حفاظت کرنے والے دیوتا ان کو پہچان نہ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: وہی لوگ شکوہ و شکایت کرتے ہیں جنہیں اپنی ذات پر اعتماد نہیں ہوتا ایک فضول اور بھونڈا فعل ہے، یاد رکھیے مصیبت کبھی کسی کی مددگار نہیں ہوتی
منتر اور قربانی
چبوترے کے پاس ہی کھڑا ہوا بڑا پروہت اس دوران بلند آواز میں منتر پڑھتا رہتا اور ان چیر پھاڑ کرنے والے پجاریوں پر مسلسل چھوٹی چھوٹی کنکریاں پھینکتا تاکہ دیوتاؤں کو ان لوگوں سے اپنی نفرت کے اظہارکا تاثر دیا جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں کمی
اجزاء کی صفائی
اس کے بعد وہ لاش کے اندرونی اجزاء کو ایک خاص قسم کے نمک اور مصالحے وغیرہ لگا کر دھوتے اور پھر ان کو خشک ہونے کے لیے محفوظ جگہ پر رکھ دیتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ جیل کے باہر سے گرفتار ہونیوالے پی ٹی آئی رہنماؤں کو رہا کردیا گیا
لاش کی خشک کرنا
لاش کو حنوط کرنے کا عمل شروع ہو جاتا۔ پجاری لاش کو اچھی طرح ایک خاص نمک والے پانی سے مسلسل دھوتے۔ اس کے لیے وہ شراب بھی استعمال کرتے جو اینٹی بائیوٹک کا کام کرتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز نے خاتون کو ہراساں کرنے والے پولیس اہلکار کی گرفتاری کے بعد کی تصویر شیئر کردی
سکڑنا اور نرم کرنا
جب لاش اچھی طرح خشک ہو کر سوکھ جاتی تو وہ سکڑ جاتی تھی اور اس کے جسم پر جھریاں بھی پڑ جاتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی شوبز انڈسٹری میں مرد اداکاروں کے ساتھ بھی جنسی ہراسانی کے واقعات، تاریک پہلو سامنے آگیا
حتمی مراحل
آخری مرحلے میں اس پر موم اور تیل میں ڈوبی ہوئی سوتی پٹیوں کو باندھنا شروع کیا جاتا۔ اس کے علاوہ مردے کی مالی حیثیت کے مطابق ان پٹیوں میں طلائی زیورات قیمتی پتھر یا ہیرے جواہرات وغیرہ بھی رکھے جاتے تھے۔
اختتام
اب گویا لاش کے حنوط کرنے کا عمل مکمل ہوگیا تھا۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








