طالبہ سے مبینہ زیادتی کا غیرمصدقہ واقعہ، ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ 16 انفلوئنسرز گرفتار کر لیے گئے
لاہور میں طالبہ سے مبینہ زیادتی کی تفتیش
لاہور(ویب ڈیسک) نجی کالج میں طالبہ سے مبینہ زیادتی کے غیرمصدقہ واقعے کی تفتیش میں اہم پیشرفت ہوئی ہے اور پولیس نے 16 ڈیجیٹل میڈیا انفلوئنسر گرفتار کرلیے ۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان سے مذاکرات کے لیے ابھی تک کوئی وفد دوحہ نہیں گیا، سیکیورٹی ذرائع
پولیس کی کارروائیاں
ڈی آئی جی عمران کشور کے مطابق پولیس نے سوشل میڈیا پرمہم چلانے والے 16 افراد گرفتار کرلیے ہیں، فیک نیوز پھیلانے والے 138اکاؤنٹس بلاک کروائے گئے ہیں جبکہ توڑپھوڑ اور تشدد میں 40 طلبہ ملوث تھے جن کی شناخت کرلی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کسی شخص کو استثنیٰ دینا آئین اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہے: حافظ نعیم الرحمان
سوشل میڈیا پر جعلی مہم
جیونیوز کے مطابق ان کا کہنا تھاکہ سوشل میڈیا پرجعلی مہم چلاکر انتشارپھیلانے والوں کےخلاف کارروائی جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت پھر بڑھ گئی، 900روپے کا اضافہ
احتجاج اور تحقیقات
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں لاہور میں طالبہ سے مبینہ زیادتی کے واقعے پر غیر مصدقہ خبر وائرل ہوئی تھی جس کے بعد لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں طلبہ نے احتجاج کیا تھا اور توڑ پھوڑ کی تھی۔
تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ
بعد ازاں تحقیقاتی کمیٹی بنائی گئی تھی جس کے مطابق کالج میں لڑکی سے زیادتی کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور نہ ہی مبینہ زیادتی کا کوئی عینی شاہد ملا ہے، کمیٹی نے 28 کے قریب طلبہ اور طالبات کے انٹرویو کیے جس میں طلبہ اور طالبات نے بیان میں ادھر ادھر سے سننا بتایا۔








