قاضی فائز عیسیٰ نے منفرد اعزاز اپنے نام کرلیا
سابق چیف جسٹس کی برطانیہ روانگی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ برطانیہ کی قدیم ترین قانونی درسگاہ مڈل ٹیمپل میں ان کے اعزاز منعقدہ تقریب میں شرکت کیلئے بیرون ملک روانہ ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: منیجر پاکستان ہاکی ٹیم مبینہ طور پر جہاز میں سگریٹ پیتے پکڑے گئے، آف لوڈ کردیاگیا
مڈل ٹیمپل میں اولین شخصیت
جیونیوز کے مطابق قاضی فائز عیسیٰ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ پاکستان کی پہلی شخصیت ہیں جنہیں مڈل ٹیمپل میں بطور بینچر منتخب کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام فالس فلیگ: عوام کا پاک فوج سے اظہار یکجہتی، پھول نچھاور کئے
تقریب کی دعوت
سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو اس سال مئی میں تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ قاضی فائز عیسیٰ نے اسی عظیم قانونی درسگاہ سے قانون کی تعلیم حاصل کی تھی اور ان کے والد قاضی عیسیٰ بھی مڈل ٹیمپل کے گریجویٹ تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے گزشتہ رات فاش غلطی کی، خمیازہ ضرور بھگتنا ہوگا، وزیر اعظم شہباز شریف کا قوم سے خطاب
تقریب کی تاریخ طے کرنا
قاضی فائز عیسیٰ نے مڈل ٹیمپل کی انتظامیہ کو لکھا تھا کہ وہ 25 اکتوبر کو اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد ہی شرکت کر سکتے ہیں جس پر ان کے اعزاز میں تقریب کی تاریخ 29 اکتوبر مقرر کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم میں ممکنہ تبدیلیاں سامنے آ گئیں
مڈل ٹیمپل کا تعارف
مڈل ٹیمپل (Middle Temple) لندن کی چار تاریخی اور معتبر قانونی اداروں میں سے ایک ہے جنہیں Inns of Court کہا جاتا ہے۔ ان اداروں میں قانون کے طلبہ کو تربیت دی جاتی ہے اور وکالت میں داخلہ کیلئے لائسنس دیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا امریکی عدالت میں عافیہ صدیقی کیس میں فریق بننے سے انکار
تاریخی اہمیت
مڈل ٹیمپل کی بنیاد 14ویں صدی میں رکھی گئی تھی، اور یہ صدیوں سے برطانوی قانونی نظام کے مرکز میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فضیلہ قاضی نے صدارتی ایوارڈ سے متعلق اہم وضاحت پیش کی
وکلا کی تربیت
یہ ادارہ وکلا کو بار میں شمولیت کیلئے تربیت اور لائسنس فراہم کرتا ہے۔ اس کے ممبران میں نہ صرف برطانوی بلکہ عالمی سطح پر کئی اہم قانونی شخصیات شامل رہی ہیں۔ مڈل ٹیمپل کے گریجویٹس میں سر تھامس مور، ایڈمنڈ برک اور مہاتما گاندھی جیسی اہم شخصیات شامل ہیں۔
تعلیمی معیار
مڈل ٹیمپل میں تعلیمی نظام انتہائی سخت اور معیار میں اعلیٰ ہوتا ہے۔ یہ اپنے طلبہ کو قانونی مہارتوں کے علاوہ عدالتی معاملات کی عملی تربیت بھی فراہم کرتا ہے جس سے وہ پیشہ وارانہ دنیا میں کامیابی سے قدم رکھ سکیں۔








