یونانیوں اور رومنوں نے فرعونوں سے یہ علاقہ چھین کر حکومت قائم کی، روایتیں بھی ساتھ لائے، مردوں کو حنوط کرنے اور ممی بنانے کے فن کو مزید نفاست دی
حنوط کرنے کا طریقہ
مصنف: محمد سعید جاوید
قسط:42
اسی دوران جب جسم کے اندر سے نکالے گئے اجزاء خشک ہو جاتے تو ان کو بھی ایک خاص طریقے سے حنوط کرکے مٹی کے مزین مرتبانوں میں رکھ دیا جاتا تھا۔ یہ چار مرتبان ہوتے تھے جن کے ڈھکن مختلف اشکال اور جانوروں کے چہروں سے مشابہ ہوتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوجی افسران کے پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کے مستند شواہد ہیں: لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری
مرتبانوں کی اقسام
یہ ان کے چار اہم دیوتاؤں سے مشابہت رکھتے تھے اور جو ان کے عقیدے کے مطابق ان اجزاء کی حفاظت کے ذمہ دار تھے۔ ایک مرتبان کا ڈھکن گیدڑ، ایک عقاب، ایک ببون بندر اور ایک انسانی شکل میں بنا ہوا ہوتا تھا اور ہر ایک مرتبان جسم کے مخصوص حصے کو حنوط کرنے کے کام آتا۔
مثلاً گیدڑ کے ڈھکن والا مرتبان معدے اور اور عقاب والا انتڑیوں کے اجزا کے لیے مخصوص ہوتا تھا۔ اسی طرح بندر کے ڈھکن والے مرتبان میں متوفی کے پھیپھڑے رکھے جاتے تھے اور انسانی چہرے والا مرتبان اس کے جگر کے لئے مخصوص تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی گھوٹکی کے درمیان تنازع، دونوں افسران عہدوں سے فارغ
مومیا کے ساتھ مرتبان
بعدازاں ان مرتبانوں میں ایک خاصی قسم کا تیل اور کچھ دوسرے کیمیاوی اجزاء ڈال کر اوپر ڈھکن سے بند کرکے مستقل طور پر سیل کر دیا جاتا تھا۔ پھر غالباً کسی تحقیق کے نتیجے میں انہوں نے یہ راز پا لیا کہ ان اعضاء کو جسم سے باہر نکال کر حنوط کرنے کی ضرورت نہیں ہے، لہٰذا اب وہ انہیں لاش کے اندر ہی چھوڑ دیتے تھے۔ تاہم اپنی مذہبی روایات اور اعتقاد کے مطابق چاروں خالی مرتبان اب بھی ممی کے پہلو میں رکھ دیئے جاتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بلاول بھٹو کی تقریر کے بعد عمر ایوب کو بات کرنے کی اجازت دینے پر پیپلزپارٹی کا احتجاج
مقبرہ اور تابوت کی تیاری
فرعونوں اور صاحبِ ثروت افراد کے لئے تو باقاعدہ پتھر کے تابوت بنتے تھے۔ جس میں حنوط کی گئی لاش کو ایک سے زیادہ دھاتی، نقرئی یا طلائی تابوتوں میں بند کر کے اس بڑے سنگی تابوت میں رکھ کر پتھر کے ڈھکن سے اس کو بند کر دیا جاتا تھا۔ جسے اس کے پہلے سے تیار مقبرے میں رکھ کر چاروں مرتبان ایک خاص ترتیب کے ساتھ تابوت کے سرہانے رکھ دیئے جاتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر میں اے آئی کسٹمز کلیئرنس سسٹم متعارف ہونے کا معاملہ، پنجا ب کے امپورٹر کو اے آئی کی غلطی دور کروانے کراچی جانا پڑے گا: رضوان رضی
مردہ کی بحالی کی امید
ان کا خیال تھا کہ جب مردہ دوبارہ زندہ ہوگا تو تمام چیزیں اس کے قریب ہونے کی وجہ سے ان کے دیوتا چاروں مرتبانوں میں سے ان کے اندرونی اعضاء کو نکال کر دوبارہ جسم میں لگا دیں گے۔ اسی طرح ان کے مقبروں میں بنی ہوئی گندم، جو، مکئی اور مختلف کھانے پینے کی اشیاء اور روزمرہ ضروریات کی تمام چیزیں رکھ دی جاتی تھیں تاکہ جب وہ اٹھیں تو ان کی خوراک اور دیگر ضروریات فوراً پوری ہوسکیں۔
یہ بھی پڑھیں: فن لینڈ نے پاکستان میں اپنا سفارت خانہ بند کرنے کا اعلان کر دیا
عام لوگوں کی تدفین
غریب اور عام باشندوں کو یہ سہولتیں مہیا نہیں کی جاتیں۔ ان کے حنوط شدہ جسم ایک بڑے سے ہال کی دیواروں میں بنائے گئے کبوتر کے کابک کی طرح کے خانوں میں رکھ کر چاروں مرتبان بھی ساتھ رکھ کر اس چھوٹے سے قبر نما خانے کو پتھریلی سلوں سے بند کر دیا جاتا۔ یہ ایک طرح سے ان کا عمومی قبرستان تھا۔
یہ بھی پڑھیں: میں کسی کے خلاف نہیں، اپوزیشن نے ایوان کی کارروائی احسن انداز میں چلانے کا حلف اٹھا رکھا ہے، اسمبلی کو تماشا گاہ نہیں بننے دیں گے، سپیکر پنجاب اسمبلی
یونانی اور رومی اثرات
بعد میں جب یونانیوں اور رومنوں نے آکر فرعونوں سے یہ علاقہ چھین کر اپنی حکومت قائم کی تو وہ اپنی روایتیں بھی ساتھ لائے تھے۔ حالانکہ وہ بھی قدیم مصریوں کی طرح اپنے مردوں کو حنوط کرتے تھے تاہم انہوں نے ممی بنانے کے اس فن کو مزید نفاست دی۔
ممی کی خصوصی تیاری
وہ ایک خاص انداز سے مردے کے جسم پر اس طرح پٹیاں لپیٹتے تھے کہ خوبصورت ڈیزائن بن جاتے تھے۔ ان کی ایک اور خصوصیت یہ بھی تھی کہ جتنی دیر تک ایک ممی تیاری کے مراحل سے گزرتی، وہ مرنے والے کیلئے بہت ہی خوبصورت سنگی یا چوبی تابوت تیار کرواتے اور اس کے سرہانے کی جانب مرنے والے کی بڑی بڑی آنکھوں والی ایک خوبصورت اور رنگین تصویر بنا دیتے تھے اور تھوڑی بہت تاریخ بھی لکھ دیتے۔
نجانے وہ کیسے رنگ استعمال کرتے تھے کہ ہزاروں سال گزرنے کے باوجود ان کا رنگ پھیکا نہیں پڑا تھا۔ وہ اپنی حسین آنکھوں اور رنگین چمڑے کے لبادوں میں بنی ہوئی ان کی تصویروں میں بھی بالکل ایسے ہی نظر آتے تھے جیسے کہ آج کل اس عہد کی فلموں میں ان کو دکھایا جاتا ہے۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں








