بچ کے جنگل سے نکل آۓ تھے غیروں سے ضرور۔۔۔
نظم کی ابتدائی سطریں
عیب فطرت میں یہ ہرگز مری پایا نہ گیا
کر کے احسان کبھی مجھ سے جتایا نہ گیا
یہ بھی پڑھیں: توانائی کے شعبے میں اہم قدم، لیسکو اور CISNR کے درمیان ڈیجیٹائزیشن اور کاربن اخراج میں کمی کے معاہدے پر دستخط
احساسات کی عکاسی
حالِ دل اپنا سناتا تو سناتا کس کو
خیریت پوچھنے میری کوئی آیا نہ گیا
یہ بھی پڑھیں: عثمان بزدار کے والد سردار فتح بزدار کو ”ننھا سردار“ کہتا، صاحب مسکراتے،آفرین عمران خان پر کیسے شخص کا انتخاب کیا، تعویذوں سے حکومتیں نہیں چلائی جاتیں
چمن کی نگہبانی
کیا کریں گے وہ نگہبانی چمن کی آخر
جن سے اک پھول کا پودا بھی لگایا نہ گیا
یہ بھی پڑھیں: شوہر کا قتل: بیوی کو عمر قید، آشنا کو مرتے دم تک پھانسی پر لٹکانے کا حکم
باپ کی کمائی
باپ کی اپنی کمائی تو لٹا ڈالی مگر
خود کمایا تو پھر اِک پیسہ لٹایا نہ گیا
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف 17 ستمبر سے سہ ملکی دورہ کریں گے
غیروں اور اپنوں کی باتیں
بچ کے جنگل سے نکل آۓ تھے غیروں سے ضرور
اپنے والوں سے مگر خود کو بچایا نہ گیا
یہ بھی پڑھیں: نیپال نے فیس بک، ایکس، یوٹیوب، انسٹاگرام سمیت 26 ایپلی کیشنز اور پلیٹ فارمز کو بلاک کردیا
کھانے کی تقسیم
خود تو کھاتے رہے وہ مرغ مسلم لیکن
بس پڑوسی کو ہی اِک لقمہ کھلایا نہ گیا
یہ بھی پڑھیں: ایران ڈیل چاہتا ہے لیکن بولنے سے ڈر رہا، دنیا میں 8 جنگیں رکوائیں، ایک جنگ جیت رہے ہیں: ٹرمپ
زندگی کے تجربات
عمر بھر دیکھ مرے شمس و قمر ساتھ رہے
اسکی دیوار کا سر سے مرے سایا نہ گیا
لالٹین کی قدر
لالٹین آج مری قدر نہیں ہے لیکن
یہ بھی اک سچ ہے مرا کام بھلایا نہ گیا
کلام : مجاہد لالٹین الٰہ آبادی (بھارت)








