بچ کے جنگل سے نکل آۓ تھے غیروں سے ضرور۔۔۔
نظم کی ابتدائی سطریں
عیب فطرت میں یہ ہرگز مری پایا نہ گیا
کر کے احسان کبھی مجھ سے جتایا نہ گیا
یہ بھی پڑھیں: سابق وزیراعظم آزادکشمیر سردار تنویر الیاس پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے
احساسات کی عکاسی
حالِ دل اپنا سناتا تو سناتا کس کو
خیریت پوچھنے میری کوئی آیا نہ گیا
یہ بھی پڑھیں: مظفرگڑھ میں ایک اور لڑکے کو بدفعلی کا نشانہ بنا دیاگیا، افسوسناک انکشاف
چمن کی نگہبانی
کیا کریں گے وہ نگہبانی چمن کی آخر
جن سے اک پھول کا پودا بھی لگایا نہ گیا
یہ بھی پڑھیں: دسمبر میں تاریخ ساز ٹیکس وصولی، وزیر خزانہ کی ایف بی آر کو مزید اضافے کی ہدایت
باپ کی کمائی
باپ کی اپنی کمائی تو لٹا ڈالی مگر
خود کمایا تو پھر اِک پیسہ لٹایا نہ گیا
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کے بھانجے شاہ ریز خان کی درخواست ضمانت منظور
غیروں اور اپنوں کی باتیں
بچ کے جنگل سے نکل آۓ تھے غیروں سے ضرور
اپنے والوں سے مگر خود کو بچایا نہ گیا
یہ بھی پڑھیں: جیل جانے میں کوئی مسئلہ نہیں، اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، ایمان مزاری
کھانے کی تقسیم
خود تو کھاتے رہے وہ مرغ مسلم لیکن
بس پڑوسی کو ہی اِک لقمہ کھلایا نہ گیا
یہ بھی پڑھیں: سہیل سلطان کی نااہلی سے متعلق کیس؛ وفاقی آئینی عدالت نے اٹارنی جنرل کو معاونت کیلئے نوٹس جاری کردیا
زندگی کے تجربات
عمر بھر دیکھ مرے شمس و قمر ساتھ رہے
اسکی دیوار کا سر سے مرے سایا نہ گیا
لالٹین کی قدر
لالٹین آج مری قدر نہیں ہے لیکن
یہ بھی اک سچ ہے مرا کام بھلایا نہ گیا
کلام : مجاہد لالٹین الٰہ آبادی (بھارت)








