بچ کے جنگل سے نکل آۓ تھے غیروں سے ضرور۔۔۔

نظم کی ابتدائی سطریں
عیب فطرت میں یہ ہرگز مری پایا نہ گیا
کر کے احسان کبھی مجھ سے جتایا نہ گیا
یہ بھی پڑھیں: 15 ماہ کی حاملہ: بانجھ خواتین کو معجزاتی طریقوں سے حمل ٹھہرانے کا دھوکہ کیسے بے نقاب ہوا؟
احساسات کی عکاسی
حالِ دل اپنا سناتا تو سناتا کس کو
خیریت پوچھنے میری کوئی آیا نہ گیا
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کی بغاوت کو ایک بار پھر ناکام بنا دیا: عظمیٰ بخاری
چمن کی نگہبانی
کیا کریں گے وہ نگہبانی چمن کی آخر
جن سے اک پھول کا پودا بھی لگایا نہ گیا
یہ بھی پڑھیں: بیرسٹر گوہر علی خان اور سینیٹر فیصل واوڈا کا آمنا سامنا، خوشگوار ماحول میں بات چیت
باپ کی کمائی
باپ کی اپنی کمائی تو لٹا ڈالی مگر
خود کمایا تو پھر اِک پیسہ لٹایا نہ گیا
یہ بھی پڑھیں: حکومت مستقبل میں بجلی نہیں خریدے گی: اویس لغاری
غیروں اور اپنوں کی باتیں
بچ کے جنگل سے نکل آۓ تھے غیروں سے ضرور
اپنے والوں سے مگر خود کو بچایا نہ گیا
یہ بھی پڑھیں: انسداد دہشتگردی عدالت سے 625 ملزمان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستیں خارج
کھانے کی تقسیم
خود تو کھاتے رہے وہ مرغ مسلم لیکن
بس پڑوسی کو ہی اِک لقمہ کھلایا نہ گیا
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں سانس لینے کی جنگ: بیجنگ اور لندن نے بدترین سموگ کے بحران کا حل کیسے تلاش کیا؟
زندگی کے تجربات
عمر بھر دیکھ مرے شمس و قمر ساتھ رہے
اسکی دیوار کا سر سے مرے سایا نہ گیا
لالٹین کی قدر
لالٹین آج مری قدر نہیں ہے لیکن
یہ بھی اک سچ ہے مرا کام بھلایا نہ گیا
کلام : مجاہد لالٹین الٰہ آبادی (بھارت)