سعودی عرب میں قید 4 ہزار پاکستانیوں کے پاسپورٹ بلاک
پاکستان حکومت کی کارروائی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت پاکستان نے سعودی عرب میں قید 4 ہزار پاکستانیوں کے پاسپورٹ بلاک کردیے۔
یہ بھی پڑھیں: فیصل آباد میں مالک مکان کے مبینہ تشدد سے 13 سالہ ملازمہ جاں بحق
گرفتاریوں کی وجہ
ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی حکومت نے ان 4 ہزار پاکستانی شہریوں کو بھیک مانگنے اور دیگر جرائم میں ملوث ہونے پر گرفتار کر رکھا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پاکستان کا یومِ پیدائش، پاکستان جرنلسٹس فورم نے سالگرہ کا کیک کاٹا
پاسپورٹ کی پابندی
رپورٹ میں کہا گیا کہ ان پاکستانی شہریوں کے پاسپورٹ 7 سال کے لئے بلاک کئے گئے ہیں، سعودی عرب میں گرفتار 60 فیصد سے زائد شہریوں کا تعلق صوبہ پنجاب اور خیبرپختونخوا سے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دوسرا ون ڈے ، جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستان کی بیٹنگ جاری
ایمرجنسی ٹریول دستاویزات
حکام کی جانب سے گرفتار افراد کو پاکستان واپس آنے کے لئے ایمرجنسی ٹریول دستاویزات جاری کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور میں بارودی مواد کا دھماکہ
ڈی پورٹ کرنے کا آپریشن
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار شہریوں کو سعودی عرب سے ڈی پورٹ کرنے کا آپریشن جلد شروع کیا جائے گا اور پاکستان پہنچنے پر ان ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: جے شاہ 35 سال کی عمر میں کرکٹ کی دنیا کا سب سے طاقتور آدمی کیسے بنے؟
ایف آئی اے کی کارروائیاں
یاد رہے کہ رواں ماہ کے شروع میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے ملتان ایئرپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے سعودی عرب جانے والی پرواز میں عمرہ زائرین کے بھیس میں سوار 8 مبینہ بھکاریوں کو جہاز سے اتار دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: یار! دل ہی کھٹا ہو گیا۔تبادلہ واپس کرا کر آ گیا ہوں،نہ دل نہ ضمیر پر کوئی بوجھ نہیں، ہم نئے دفتر پہنچے، متعلقہ شعبہ میں فون کرایا اور ٹیسٹ آسانی سے ہو گئے۔
قانونی کارروائی کی تفصیلات
ایف آئی اے کے بیان کے مطابق امیگریشن کے دوران معلوم ہوا کہ یہ گروپ بھیک مانگنے کے مقصد سے سعودی عرب جا رہا ہے، گروپ نے ایک لاکھ 85 ہزار روپے کی رقم جاوید نامی شخص کے حوالے کی جس نے ان کے ویزوں کے حوالے سے کارروائی کی۔
یہ بھی پڑھیں: یہ بیانیہ غلط ہے کہ ہم اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہیں یا ہمارا کوئی جھگڑا ہے، علی امین گنڈا پور
2018 کے ٹریفکنگ ایکٹ کے تحت مقدمات
ایف آئی اے نے مزید کہا کہ ملزمان کے خلاف ٹریفکنگ ان پرسنز ایکٹ 2018 کے تحت مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کی ٹیکس قوانین پر عملدرآمد بڑھانے کیلئے مزید سخت اقدامات کی تجویز
کریک ڈاؤن کی وجوہات
وزارتِ سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پر یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ بھکاریوں کو بڑی تعداد میں غیرقانونی ذرائع سے بیرون ملک سمگل کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر میڈیکل یونیورسٹی میں ہراسانی؛ 18 گریڈ کا افسر ملازمت سے برطرف، مرکزی ملزم طالبعلم کو بھی نکال دیا گیا
بڑے پیمانے پر انکشافات
وزارت کے سیکرٹری نے سینیٹ پینل کے سامنے انکشاف کیا کہ بیرون ملک پکڑے گئے بھکاریوں میں سے 90 فیصد کا تعلق پاکستان سے ہے۔
جیلوں میں بھیڑ
عراقی اور سعودی سفیروں نے اطلاع دی ہے کہ ان گرفتاریوں کی وجہ سے جیلوں میں بہت زیادہ بھیڑ جمع ہو گئی ہے۔







