خوش اور مطمئن رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو آپ سے بڑھ کر کوئی ذہین نہیں، احساس کمتری میں مبتلا ہیں تو آپ دوسروں کیساتھ اپنا تقابل کرتے ہیں
مصنف کی معلومات
مصنف: ڈاکٹر وائن ڈبلیو ڈائر
ترجمہ: ریاض محمود انجم
قسط: 31
یہ بھی پڑھیں: زیادتی کا الزام لگانے والی خاتون عدالت میں اپنے پہلے بیان سے مکر گئی
خود کی خوبیوں کی طرف توجہ
آپ اپنی ذات میں موجود خوبیوں اور پہلوؤں کے ذریعے ایسے رویے اور طرز عمل اپنا سکتے ہیں۔ آپ خود کو ذہین اور عقلمند سمجھ سکتے ہیں اگر آپ اپنی صلاحیت اور استعداد کو معیار تصور کرتے ہیں۔ درحقیقت، آپ جتنا زیادہ خوش اور مطمئن ہوں گے، اتنا ہی آپ ذہین اور دانشمند ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ہر تازہ سیاسی، قانونی مسئلے کو بار کے اجلاسوں میں اٹھا دینا گویا اپنے اْوپر لازم کررکھا تھا، یوں وکلاء کو مجبور کرتے کہ قومی مسائل پر غور و فکر کریں
کمزوریوں کا اثر
اگر آپ زندگی کے کسی شعبے مثلاً لکھنے یا ہجے کرنے میں کمزور ہیں تو یہ کمزوریاں آپ کے ان رویوں کا نتیجہ ہیں جو آپ نے اپنائے ہوئے ہیں۔ اگر آپ ان شعبوں میں مزید محنت کریں تو بلاشبہ آپ میں بہتری آئے گی۔
یہ بھی پڑھیں: عید قریب آتے ہی نئے کرنسی نوٹوں کی خریداری بھی بڑھ گئی
احساس کمتری اور ذہانت
اگر آپ خود کو ذہین نہیں سمجھتے تو یہ یاد رکھیں کہ اگر آپ نے خوش رہنے کا فیصلہ کیا ہے تو آپ سے بڑھ کر کوئی ذہین نہیں ہے۔ احساس کمتری اس بات کی علامت ہے کہ آپ دوسروں کے ساتھ اپنے آپ کا تقابل کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی عوام کو نئے سپریم لیڈر کی قیادت میں متحد رہنا چاہیے:سیکرٹری جنرل نیشنل سیکیورٹی کونسل علی لاریجانی
ذہانت اور کامیابی
کامیابی کے لیے معیاری امتحانات میں ذہانت کا اظہار مرحلہ وار ہوتا ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ہر درجے میں اعلیٰ کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ بعد میں بھی کامیاب ہوتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ، آپ میں ذہانت پروان چڑھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے اپنے جانی و مالی نقصانات کے بارے میں شفافیت دکھائی، کیا بھارت اتنی دیانتداری کا مظاہرہ کر رہا ہے؟ڈی جی آئی ایس پی آر
آمادگی اور محنت
جان کیرول لکھتے ہیں کہ کسی بھی شعبے میں مہارت حاصل کرنے کے لیے وقت کا خرچ بہت اہم ہے۔ آپ محنت کرکے کسی بھی شعبے میں مہارت حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی 1 روپے 78 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
مثبت رویہ اختیار کریں
کیا آپ اپنے وقت کو فضول مسائل میں صرف کرنا چاہتے ہیں؟ بہتر یہ ہے کہ آپ خوش رہنے، مؤثر زندگی گزارنے اور بہترین مقاصد کو متعین کرنے کا سلیقہ سیکھیں۔ یاد رکھیں، ذہانت وراثتی نہیں بلکہ یہ آپ کی محنت اور مرضی سے حاصل کردہ خوبی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا کیس؛ الیکشن کمیشن نے طلال چودھری کے بھائی بلال چودھری کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روک دیا
اختتام
جب آپ یہ سوچیں گے کہ آپ خوشی اور کامیابی حاصل نہیں کر سکتے، تو یہ آپ کے وجود کی توہین ہے۔ اس خیال سے نقصاندہ نتائج رُو نما ہو سکتے ہیں۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے۔ (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








