خوش اور مطمئن رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو آپ سے بڑھ کر کوئی ذہین نہیں، احساس کمتری میں مبتلا ہیں تو آپ دوسروں کیساتھ اپنا تقابل کرتے ہیں
مصنف کی معلومات
مصنف: ڈاکٹر وائن ڈبلیو ڈائر
ترجمہ: ریاض محمود انجم
قسط: 31
یہ بھی پڑھیں: زندگی کے کٹھن وقت، سرکاری ٹیکے اور رمضان بازار کے گھپلے
خود کی خوبیوں کی طرف توجہ
آپ اپنی ذات میں موجود خوبیوں اور پہلوؤں کے ذریعے ایسے رویے اور طرز عمل اپنا سکتے ہیں۔ آپ خود کو ذہین اور عقلمند سمجھ سکتے ہیں اگر آپ اپنی صلاحیت اور استعداد کو معیار تصور کرتے ہیں۔ درحقیقت، آپ جتنا زیادہ خوش اور مطمئن ہوں گے، اتنا ہی آپ ذہین اور دانشمند ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ نے خاموشی سے یمن میں 500 سے زیادہ حوثی جنگجو مار دیے، اب کیا ہونے جا رہا ہے؟ تہلکہ خیز خبر آگئی۔
کمزوریوں کا اثر
اگر آپ زندگی کے کسی شعبے مثلاً لکھنے یا ہجے کرنے میں کمزور ہیں تو یہ کمزوریاں آپ کے ان رویوں کا نتیجہ ہیں جو آپ نے اپنائے ہوئے ہیں۔ اگر آپ ان شعبوں میں مزید محنت کریں تو بلاشبہ آپ میں بہتری آئے گی۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت نے شب برات کے موقع پر صوبے بھر کے تمام تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان کر دیا
احساس کمتری اور ذہانت
اگر آپ خود کو ذہین نہیں سمجھتے تو یہ یاد رکھیں کہ اگر آپ نے خوش رہنے کا فیصلہ کیا ہے تو آپ سے بڑھ کر کوئی ذہین نہیں ہے۔ احساس کمتری اس بات کی علامت ہے کہ آپ دوسروں کے ساتھ اپنے آپ کا تقابل کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں حالیہ مون سون بارش سے کتنا نقصان ہوا؟ پی ڈی ایم اے کی رپورٹ جاری
ذہانت اور کامیابی
کامیابی کے لیے معیاری امتحانات میں ذہانت کا اظہار مرحلہ وار ہوتا ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ہر درجے میں اعلیٰ کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ بعد میں بھی کامیاب ہوتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ، آپ میں ذہانت پروان چڑھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت کی کفایت شعاری پالیسی؛ مارکیٹس، ہوٹلز، شادی ہالز کے نئے اوقات کار نافذ
آمادگی اور محنت
جان کیرول لکھتے ہیں کہ کسی بھی شعبے میں مہارت حاصل کرنے کے لیے وقت کا خرچ بہت اہم ہے۔ آپ محنت کرکے کسی بھی شعبے میں مہارت حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے بیٹے کو مبینہ زہر دینے کے مقدمے میں والد کو بری کر دیا
مثبت رویہ اختیار کریں
کیا آپ اپنے وقت کو فضول مسائل میں صرف کرنا چاہتے ہیں؟ بہتر یہ ہے کہ آپ خوش رہنے، مؤثر زندگی گزارنے اور بہترین مقاصد کو متعین کرنے کا سلیقہ سیکھیں۔ یاد رکھیں، ذہانت وراثتی نہیں بلکہ یہ آپ کی محنت اور مرضی سے حاصل کردہ خوبی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ترقی یافتہ ممالک کی مثال ہم سب کے سامنے ہے، بروقت اور سخت سزا انکی ترقی کا راز ہے، بات سمجھ کی ہے کوئی جتنی جلدی سمجھ جائے اتنا ہی بہتر ہے
اختتام
جب آپ یہ سوچیں گے کہ آپ خوشی اور کامیابی حاصل نہیں کر سکتے، تو یہ آپ کے وجود کی توہین ہے۔ اس خیال سے نقصاندہ نتائج رُو نما ہو سکتے ہیں۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے۔ (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








