ای پی این ایس کا حکومت پنجاب کی جانب سے پیپرا رولز میں ترمیم پر شدید تشویش کا اظہار
آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کی تشویش
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) اے پی این ایس (آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی) نے حکومت پنجاب کی جانب سے پیپرا رولز میں ترمیم کے تحت اخبارات میں ٹینڈر اشتہارات کی بندش پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 67ہزار عازمین حج وزیراعظم کے سعودی ولی عہد سے براہ راست رابطے کے منتظر، بحران شدت اختیار کر گیا، بڑے نقصان کا خدشہ
اخبارات کی مالی مشکلات
اے پی این ایس نے اس ترمیم کو پنجاب میں پہلے سے مالی مشکلات کا شکار اخبارات کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا ہے، جس سے صوبے بھر کے درمیانے اور علاقائی اخبارات کے بند ہونے اور ہزاروں صحافیوں اور اخبار کارکنوں کی بے روزگاری کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور، رکشے پر بوتلوں سے بھرا ٹرک الٹ گیا، 2 خواتین سمیت 4 افراد جاں بحق
اجلاس کی تفصیلات
پنجاب کمیٹی کے چیئرمین جمیل اطہر قاضی کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں اس مسئلے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ کمیٹی نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ترمیم کو فوری طور پر واپس لیں تاکہ اخباری صنعت کو بند ہونے اور بے روزگاری سے بچایا جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: صوابی:گاڑی پر فائرنگ،خاتون سمیت 3 افراد جاں بحق
معاشی اثرات
اجلاس میں یہ بات نوٹ کی گئی کہ اس ترمیم سے نہ صرف اخبارات کی معیشت پر برا اثر پڑے گا بلکہ سرکاری خریداری کے عمل میں شفافیت بھی متاثر ہوگی۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ اگرچہ وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اس ترمیم کو واپس لینے کی یقین دہانی کرائی تھی، مگر ابھی تک یہ ترمیم واپس نہیں لی گئی، جس کی وجہ سے اخبارات شدید مالی بحران سے دوچار ہیں.
یہ بھی پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت میں 1500روپے کمی
مشترکہ ایکشن کمیٹی کا قیام
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے سی پی این ای اور پی ایف یو جے سمیت دیگر صحافتی تنظیموں پر مشتمل ایک مشترکہ ایکشن کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ اگر حکومت پنجاب نے ترمیم واپس نہ لی تو قانونی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ تمام دستیاب فورمز پر بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔
اجلاس کے شرکاء
اجلاس میں جمیل اطہر قاضی، عرفان اشرف (جنگ)، عمران رضا (ڈان)، محمد فاروق (پاکستان)، شیخ فرقان (خبریں)، صفدر علی خان (سرزمین)، اویس رازی (طاقت)، محسن ممتاز (آفتاب)، عمران اطہر قاضی (تجارت) اور عرفان اطہر قاضی (جرأت) نے شرکت کی۔








