مصنوعی ذہانت سے تحریر کردہ خبریں قارئین کے لیے زیادہ پیچیدہ ہیں،تحقیق
تحقیق کا جائزہ
برلن (ڈیلی پاکستان آن لائن) سائنسدانوں کی طرف سے کی گئی ایک تحقیق میں صحافیوں کے تحریر کردہ متن اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ متن کی فہمی کا تقابلی جائزہ لیا گیا۔ اس بات کا تعین ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے تحریر کردہ خبروں کو قارئین کے لیے سمجھنا زیادہ مشکل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے سیلاب میں پھنسے شہریوں کو نکالنے کیلئے ڈرون کا استعمال شروع کر دیا
تحقیقی تفصیلات
جرمنی کی لڈوگ میکسی میلین یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی طرف سے کی گئی ایک تحقیق میں صحافیوں کے تحریر کردہ متن اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ متن کی فہمی کا تقابلی جائزہ لیا گیا۔
سائنسی جریدے جرنلزم: تھیوری، پریکٹس اور کرٹیسزم میں 22 اکتوبر کو شائع ہونے والی اس تحقیق میں برطانیہ میں ویب سائٹس پر باقاعدگی سے خبروں کا مطالعہ کرنے والے کم از کم 3000 افراد نے حصہ لیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان بھر میں جنوری سے نومبر 2025 تک صنفی بنیاد پر خواتین پر تشدد کے واقعات کی رپورٹ جاری
شرکاء کی پسندیدگی
شرکاء نے، نصف مصنوعی ذہانت سے اور نصف صحافیوں کی طرف سے تحریر کردہ 24 متنوں میں سے ایک کا جائزہ لیا۔
اس تحقیق کی سرکردہ مصنفہ سینا تھسلر کوردونوری نے کہا ہے کہ قارئین کو مصنوعی ذہانت کے ساتھ تحریر کردہ خبریں کم سمجھ میں آئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ کچھ مصنوعی ذہانت کے متن کو صحافیوں نے درست کیا تھا، لیکن نتیجہ وہی رہا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب نے دفاعی معاہدے پر ترانہ ریلیز کردیا
مشکل الفاظ اور اشکالات
بتایا جاتا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ متن کو سمجھنا زیادہ مشکل ہونے کی ایک وجہ الفاظ کا انتخاب ہے۔ قارئین کو ان عبارتوں میں سمجھنے میں دقت پیش آنے والے الفاظ اور اظہارِ بیان کا سامنا کرنے سے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بوشہر ایٹمی پاور پلانٹ پر اسرائیلی حملہ چرنوبل جیسے سانحے کا سبب بن سکتا ہے، روس
اعداد و شمار کا پیشکش
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شرکاء نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ متن میں اعداد و شمار اور ڈیٹا کو پیش کیے جانے کے طریقہ کار کو نا پسند کیا ہے۔ دوسری طرف قارئین روانی، ساخت اور اسلوب کے لحاظ سے متن کو تسلی بخش پایا ہے۔
ماہرین کی تجویز
اس تحقیقی منصوبے کے سربراہ پروفیسر نیل تھورمین کا کہنا ہے کہ صحافیوں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کو مصنوعی ذہانت سے معاون متن کو تشکیل دیتے وقت ناقابل فہم الفاظ کے استعمال سے گریز کریں۔








