پنجاب الیکشن ٹریبونلز کی تشکیل کا فیصلہ چیلنج،پی ٹی آئی نے نظر ثانی اپیل دائر کردی
پی ٹی آئی کا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ چیلنج
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف نے پنجاب الیکشن ٹریبونلز کی تشکیل کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں کل انٹرنیٹ سروس بند رہے گی
نئے فیصلے کی نظر ثانی کی درخواست
سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ کے 30 ستمبر کے فیصلے پر نظر ثانی اپیل دائر کردی۔ درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ اور چیف الیکشن کمشنر کے درمیان ملاقات الیکشن ٹریبونلز کی تبدیلی کی وجہ نہیں بن سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: سال 2024 سے اب تک وزیراعظم کے غیر ملکی دوروں پر 70 کروڑ سے زائد خرچہ ہو چکا ہے، شیخ وقاص اکرم۔
الیکشن ٹریبونلز کے ججز کی تعیناتی
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ الیکشن ٹریبونل کا جج کون ہوگا یہ فیصلہ چیف جسٹس کا اختیار ہے۔ سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ چار اپریل کو لاہور ہائیکورٹ رجسٹرار نے چھ الیکشن ٹریبونلز کو نوٹیفائی کیا۔
یہ بھی پڑھیں: آپریشن ’’بنیان المرصوص‘‘ کے دوران عطا اللہ تارڑ کے مؤثر اورمدلل انداز کی گونج بھارت کے ایوانوں تک پہنچ گئی
چیف الیکشن کمشنر کی ملاقات کا اثر
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ اور چیف الیکشن کمشنر کی ملاقات کے بعد الیکشن ٹریبونلز کیلئے حاضر سروس ججز کے نام واپس ہوگئے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ کے 30 ستمبر کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ریڈ زون میں پیپلزپارٹی کے کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن، ایس ایس پی آپریشنز کا مؤقف بھی آگیا
سپریم کورٹ کا فیصلہ
یاد رہے کہ 30 ستمبر کو سپریم کورٹ نے پنجاب میں الیکشن ٹریبونلز کی تشکیل سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے متفقہ فیصلہ جاری کیا۔
عدالتی متن میں محتاط رویہ
عدالت نے کہا کہ ہائی کورٹ کے جج نے چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس کی ملاقات نہ ہونے کو مدنظر نہیں رکھا۔ اگر ملاقات نہ ہونا مدنظر رکھتے تو ایسا فیصلہ نہ کیا جاتا۔ عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ تنازع جب آئینی اداروں کے مابین ہو تو محتاط رویہ اپنانا چاہئے، لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ بطور عدالتی نظیر کسی فورم پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔








