بزرگ میاں بیوی کو بیٹے کی گھر میں موجود لاش کا چار دن تک پتہ نہ چل سکا
بھارت میں بزرگ میاں بیوی کی دل خراش کہانی
حیدرآباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں ایک بزرگ میاں بیوی کو اپنے بیٹے کی موت کا علم چار دن بعد ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈسٹرکٹ کورٹ میں بشریٰ بی بی کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر ، وکیل صفائی کی درخواست ضمانت پر فیصلہ سنانے کی استدعا
واقعے کی تفصیلات
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، یہ سانحہ بھارت کی ریاست حیدرآباد کی نابینا افراد کے لیے مخصوص کالونی میں پیش آیا۔ واقعے کا پتہ اس وقت چلا جب پڑوسیوں نے قریبی فلیٹ سے ناخوش گوار بُو محسوس کی۔ اس کے بعد انہوں نے پولیس سے رابطہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: 44 سال بعد اسلامی چھاترو شبر نے چٹاگانگ یونیورسٹی انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کر لی
میاں بیوی کی شناخت
آئی اے این ایس کے مطابق، بزرگ میاں بیوی، کلووا رامانا اور ان کی اہلیہ شانتی کماری، اپنے چھوٹے بیٹے پرامود کے ساتھ ایک کرائے کے فلیٹ میں رہتے تھے۔
ان کے 30 سالہ بیٹے کی اہلیہ سے علیحدگی کے بعد ان کی دو بیٹیاں بھی ان کے ساتھ نہیں رہتی تھیں۔ پرامود مبینہ طور پر الکوحل کے عادی تھے۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کے رہنما اعظم سواتی ایک بار پھر گرفتار
پولیس کی تفتیش
ناگول پولیس اسٹیشن کے ہیڈ آفیشل سوریا نائیک نے بتایا کہ کلووا رامانا اور شانتی کماری کی عمریں 60 برس سے زیادہ ہیں۔ وہ اپنے بیٹے پرامود کو کھانے اور پانی کے لیے آواز دیتے رہے لیکن انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔
ان کی آواز کی دھیما ہونے کی وجہ سے پڑوسی بھی ان کی طرف متوجہ نہیں ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں: کینیڈا میں سکھوں نے مودی کے پتلے جلا دیئے، ہندوؤں کو ڈی پورٹ کرنے کا مطالبہ
ریسکیو اور بعد کی کارروائی
پولیس کا کہنا ہے کہ جب وہ فلیٹ میں پہنچے تو بزرگ میاں بیوی نیم بے ہوشی کی حالت میں تھے۔ انہیں فوری طور پر ریسکیو کر کے کھانا اور پانی فراہم کیا گیا۔
سوریا نائیک نے مزید بتایا کہ پرامود کی موت شاید چار یا پانچ روز قبل نیند کی حالت میں ہوئی ہے۔ اب ان کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی گئی ہے۔
میاں بیوی کی نئی رہائش
اس افسوسناک واقعے کے بعد، کلووا رامانا اور شانتی کماری کو اسی شہر میں رہنے والے اپنے بڑے بیٹے پرادیپ کے گھر منتقل کر دیا گیا ہے۔








