وہ عادات جو آپ کی شخصیت کے معیار پر پورا نہیں اترتیں، انکی اصلاح خوشگوار اور مسرت انگیز کام ہو سکتا ہے، خود کو بے وقعت سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں
مصنف اور مترجم کی معلومات
مصنف: ڈاکٹر وائن ڈبلیو ڈائر
ترجمہ: ریاض محمود انجم
قسط: 32
یہ بھی پڑھیں: پشاور میں آٹا مزید مہنگا، 20 کلو کا تھیلا 1900 روپے کا ہو گیا
کامیابی اور خود اعتمادی
اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق کامیابی اور خوشی حاصل کرنے کی صلاحیت آپ کے دماغ میں موجود تمام تصورات اور خیالات پر لاگو ہوتی ہے۔ آپ اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق معاشرتی طور پر شائستہ، مہذب اور ملنسار ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنے معاشرتی روئیے کو پسند نہیں کرتے تو آپ اپنے روئیے کو اپنی مرضی کے مطابق تبدیل بھی کر سکتے ہیں اور اپنی قدروقیمت کے علاوہ اپنی اہمیت بھی قائم اور برقرار رکھ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پولیس اہلکار نے چھاپے کی ویڈیو بنانے پر نوجوان کو گولی مار دی
فنی صلاحیتوں کی اہمیت
اسی طرح آپ کی فنکارانہ، موسیقارانہ صلاحیتیں اور کھیلوں یا فنی مہارتوں میں دلچسپی، آپ کی اپنی مرضی اور خواہش کا نتیجہ ہونا چاہیے اور آپ کی اہمیت اور قدروقیمت بالکل علیٰحدہ حیثیت کی حامل ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: حنا ربانی کھر کا بیان: بھارتی وزیر خارجہ کی پاکستان آمد کا جائزہ
عادات کی اصلاح
آپ کی وہ عادات جو آپ کی شخصیت کے معیار پر پورا نہیں اترتیں، ان کی اصلاح آپ کے لیے ایک خوشگوار اور مسرت انگیز کام ہو سکتا ہے۔ اس ضمن میں خود کو کم اہم اور بے وقعت سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ صرف بات یہ ہے کہ آپ میں کچھ عادات ایسی موجود ہیں جن میں اصلاح اور بہتری درکار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ سے تعلق رکھنے والے معروف ٹک ٹاکر نے خودکشی کر لی
خود کو کمتر سمجھنے کے رویے
اپنے وجود کو کمتر، حقیر اور غیراہم سمجھنے پر مبنی روئیے کی متعدد اقسام موجود ہیں اور شاید یہ بھی ممکن ہے کہ آپ ایسی عادات اور رویوں میں مبتلا ہوں جن کی وجہ سے آپ کی ذات حقیر اور غیراہم ثابت ہوتی ہو۔ ذیل میں اس قسم کے رویوں اور عادات کی چند مثالیں درج ہیں جو خود اپنی ذات سے انکار اور استرداد کے زمرے میں شامل ہیں:
یہ بھی پڑھیں: جنوبی کوریا میں نیتن یاہو کی تصویر پر جوتوں کی بارش
تعارف اور توجیحات
- دوسروں کی طرف سے تعریف و توصیف سے انکار (”اوہ یہ تو پرانی بات ہے“..... ”درحقیقت مجھ میں تو کوئی قابلیت نہیں، یہ میری خوش قسمتی ہے“)
- اپنی جاذب شخصیت کے بارے میں بہانے تراشنا (”یہ صرف میرے حجام کا کمال ہے کہ میرے بال اچھے لگ رہے ہیں“)
- کارنامے کا سہرا دوسروں کے سر باندھ دینا (”خدا کا شکر ہے لیکن میں ’فلاں‘ کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوں“)
- نظریات اور احساسات دیگر لوگوں سے منسوب کرنا (”میرا شوہر یہ کہتا ہے“)
- اپنے خیالات کی تصدیق دوسروں سے کرانا (”جان من! کیا یہ صحیح نہیں ہے؟“)
- چیزیں اس لیے نہ خریدنا کہ آپ خود کو مستحق نہیں سمجھتے۔
- بے وقوفی یا گھٹیا نام استعمال کرنا۔
- تحفے کو معمولی سمجھنا۔
- اپنے لیے تحفے پر شک کرنا۔
- دوست کی ملاقات کو ترس کا نام دینا۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








