آئینی ترمیم میں ایسی کوئی بات شامل نہیں جس سے انصاف کا معیار اچھا ہو، مفتاح اسماعیل
کراچی میں مفتاح اسماعیل کا بیان
سابق وفاقی وزیر خزانہ اور عوام پاکستان پارٹی کے رہنما مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ انصاف کے بہتر ہونے کے حوالے سے اس آئینی ترمیم میں کچھ نہیں کہا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: قائد اعظم اکادمی کا قائد کے 150ویں یوم پیدائش کے سلسلے میں اہم اجلاس، ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی کی بریفنگ، اہم فیصلے
وکلا سے خطاب
بار ایسوسی ایشن میں وکلا سے خطاب کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم سے پہلے ان کا دعویٰ تھا کہ انصاف سستا ہوجائے گا، لیکن ایسا کچھ ہوا نہیں۔ عوام سے یہ معاملہ چھپایا گیا اور بل چپ چاپ پاس کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہانیہ عامر کے ٹیلنٹ سے خوفزدہ بھارتیوں کو بشریٰ انصاری نے للکار دیا
معاشی اصلاحات کی کمی
انہوں نے مزید کہا کہ اس حکومت نے معیشت میں کوئی قابل ذکر اصلاحات نہیں کیں کہ کوئی بہتری آ سکے۔ ٹیکس کے اصلاحات کی طرح کی کوئی کارروائیاں بھی نہیں کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: سوالات کی بوچھاڑ ۔۔پردہ اٹھنے کا انتظار ۔۔ کنفیوژن کون ختم کرسکتا ہے۔۔ آخری پتہ کھیلا گیا تو گیم ختم ؟
تنخواہ دار طبقے پر بوجھ
مفتاح اسماعیل نے یہ بھی کہا کہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ ڈالا گیا اور سرمایہ داروں کو اربوں روپے کی سبسڈی دی گئی۔ یہ تعین پارلیمان کے ممبروں کی نشستوں پر کسی اور کا حق نہیں ہے کیونکہ پارلیمان کا انتخاب عوام کو کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عافیہ صدیقی اور عمران خان کی جیل پر امریکہ میں اسحاق ڈار کی گفتگو
انکم ٹیکس کا مسئلہ
انہوں نے کہا کہ اگر معیشت کے بارے میں بات کی جائے تو کوئی ایسی اصلاحات نہیں کی گئیں جو عوام کے فائدے میں ہوں۔ 50 ہزار کی تنخواہ دار پر انکم ٹیکس لگایا گیا مگر زمینداروں پر کوئی ٹیکس نہیں۔
بنیادی سہولیات کی کمی
مفتاح اسماعیل نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں گرمی کی شدت بڑھنے پر بجلی جاتی ہے اور سردیوں میں گیس۔ کراچی جیسے شہر میں پانی کی کمی ہے اور لوگوں کو خرید کر پانی پینے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔








