طلاق کی شرح میں غیرمعمولی اضافے سے متعلق نئی رپورٹ جاری

اسلام آباد میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح
اسلام آباد (ویب ڈیسک) گھریلو جھگڑے، ناچاکیاں اور تنازعات ناپسندیدہ لفظ کہنے پر لے آتے ہیں اور گزشتہ پانچ سالوں کے دوران طلاق کی شرح میں 35 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب: ٹریفک حادثے میں ایک ہی خاندان کے 7 افراد جاں بحق
اعداد و شمار کی روشنی میں طلاق کی صورتحال
ادارہ شماریات کے مطابق ماہرین کا ماننا ہے کہ خلع اور طلاق کمزور خاندانی نظام کی عکاسی کرتی ہیں۔ پاکستان میں طلاق کی شرح میں ناقابل ِیقین حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق ملک میں طلاق یافتہ خواتین کی تعداد 4 لاکھ 99 ہزار ریکارڈ کی گئی، گزشتہ 5 سالوں میں طلاق کی شرح میں 35 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی احتجاج، لاہور میں دوسرے روز بھی میٹرو بس سروس مکمل طورپربند
اسباب و اثرات
سماجی، معاشی اور نفسیاتی دباؤ، گھٹن زدہ ماحول، یا نااتفاقی کی وجہ سے طلاق کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ خلع و طلاق خاندانی نظام کی کمزوری کی علامت ہے۔ اگر بڑے ثالثی بنیں تو یہ شرح بہت حد تک کم ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا طویل ترین 80 نکاتی ایجنڈے پر مشتمل 21 واں اجلاس، اہم فیصلے
تنازعات کے حل میں کردار
اسلام آباد میں تنازعات کے حل کی مصالحتی کونسل بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ کی وکیل شیریں کے مطابق، کونسل اب تک 40 فیصد گھروں کو ٹوٹنے سے بچانے میں کامیاب رہی ہے۔
خاندانی نظام کی اہمیت
معاشرے میں خاندانی نظام بنیادی اکائی ہے۔ میاں بیوی بھی تحمل اور معاملہ فہمی سے رشتوں میں پڑنے والی دراڑوں کو ختم کرسکتے ہیں۔