عازمین حج کے لیے نئی پالیسی جاری، شرائط مزید سخت کردی گئیں
نئی صحت پالیسی کا اجراء
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزارت مذہبی امور نے سعودی حکومت کی شرائط کے تحت حج کے لیے نئی صحت پالیسی جاری کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رجوانہ ہاؤس ملتان میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور نواز شریف کی سالگرہ پر تقریب
پالیسی کی تفصیلات
وفاقی وزارت مذہبی امور کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستانی عازمین حج کے لیے صحت پالیسی تیار کرلی گئی ہے اور یہ پالیسی سعودی عرب کی شرائط کے مطابق ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے قوم سے سیلاب کی مشکل گھڑی میں متحد ہونے کی اپیل کر دی
حج پر جانے کی پابندیاں
پالیسی میں بتایا گیا ہے کہ ڈائیلاسز کرانے والے افراد پر اس سال حج پر جانے کی پابندی ہوگی، ہارٹ اٹیک اور سانس پھولنے کے مریض بھی حج نہیں کرسکیں گے۔ اسی طرح پھپھڑوں کی بیماری یا مصنوعی تنفس پر زندہ افراد بھی حج نہیں کرسکیں گے۔ ایسے مریض جن کا جگر فیل ہونے کا خدشہ ہو وہ بھی حج پر نہیں جاسکیں گے۔ سنگین اعصابی اور نفسیاتی امراض میں مبتلا اشخاص پر بھی نئی پالیسی کے تحت پابندی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ دیا، کن تحفظات کا اظہار کیا؟ اہم تفصیلات جانیے
مزید طبی پابندیاں
وزارت مذہبی امور نے بتایا ہے کہ پیٹ میں پانی بھرنے، منہ یا بڑی آنت سے خون آنے کی بیماری بھی اس فہرست میں شامل ہے۔ جسمانی اعضا کو حرکت دینے سے معذور افراد بھی حج پر نہیں جاسکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: جن کی دشمنیاں ہیں وہ صلح کرلیں یا دبئی چلے جائیں، ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ کا واضح پیغام
کمزوری اور حاملہ خواتین
نئی پالیسی میں صحت کے حوالے سے عازمین کے لیے شرائط سخت کردی گئی ہیں۔ کمزور یادداشت یا بھولنے کی بیماری میں مبتلا افراد پر بھی حج پر جانے کی پابندی ہوگی، 7 ماہ کی حاملہ خاتون کو بھی حج پر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: کیا آپ چاہتے ہیں 26ویں ترمیم کیس کے فیصلے کے بعد یہ کیس سنیں؟ جسٹس امین الدین کا وکیل حامد خان سے مکالمہ
متعدی بیماریوں کی پابندیاں
اسی طرح منتقل ہونے والی بیماریوں میں مبتلا مریضوں پر بھی حج پر جانے پر پابندی ہوگی۔ مزید بتایا گیا ہے کہ ٹی بی اور کینسر کے زیر علاج مریض بھی حج پر نہیں جاسکتے۔ انفلوئنزا، ڈینگی اور کورونا کے مریض بھی حج پر نہیں جاسکتے۔
سرٹیفکیٹ کی ضروریات
اس کے علاوہ عازمین کے لیے گردن توڑ بخار، انفلوئنزا، کورونا اور پولیو سرٹیفکیٹ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے。








