عازمین حج کے لیے نئی پالیسی جاری، شرائط مزید سخت کردی گئیں
نئی صحت پالیسی کا اجراء
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزارت مذہبی امور نے سعودی حکومت کی شرائط کے تحت حج کے لیے نئی صحت پالیسی جاری کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کے نجی تعلیمی اداروں میں 21دسمبر سے 5جنوری تک موسم سرما کی تعطیلات کااعلان
پالیسی کی تفصیلات
وفاقی وزارت مذہبی امور کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستانی عازمین حج کے لیے صحت پالیسی تیار کرلی گئی ہے اور یہ پالیسی سعودی عرب کی شرائط کے مطابق ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ؛ 190 ملین پاؤنڈ کیس کی جلد سماعت کی درخواستیں دائر
حج پر جانے کی پابندیاں
پالیسی میں بتایا گیا ہے کہ ڈائیلاسز کرانے والے افراد پر اس سال حج پر جانے کی پابندی ہوگی، ہارٹ اٹیک اور سانس پھولنے کے مریض بھی حج نہیں کرسکیں گے۔ اسی طرح پھپھڑوں کی بیماری یا مصنوعی تنفس پر زندہ افراد بھی حج نہیں کرسکیں گے۔ ایسے مریض جن کا جگر فیل ہونے کا خدشہ ہو وہ بھی حج پر نہیں جاسکیں گے۔ سنگین اعصابی اور نفسیاتی امراض میں مبتلا اشخاص پر بھی نئی پالیسی کے تحت پابندی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی خبروں پر علی امین گنڈا پور کا رد عمل
مزید طبی پابندیاں
وزارت مذہبی امور نے بتایا ہے کہ پیٹ میں پانی بھرنے، منہ یا بڑی آنت سے خون آنے کی بیماری بھی اس فہرست میں شامل ہے۔ جسمانی اعضا کو حرکت دینے سے معذور افراد بھی حج پر نہیں جاسکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (پیر) کا دن کیسا رہے گا ؟
کمزوری اور حاملہ خواتین
نئی پالیسی میں صحت کے حوالے سے عازمین کے لیے شرائط سخت کردی گئی ہیں۔ کمزور یادداشت یا بھولنے کی بیماری میں مبتلا افراد پر بھی حج پر جانے کی پابندی ہوگی، 7 ماہ کی حاملہ خاتون کو بھی حج پر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمان نے 27 ویں آئینی ترمیم کو مسترد کردیا
متعدی بیماریوں کی پابندیاں
اسی طرح منتقل ہونے والی بیماریوں میں مبتلا مریضوں پر بھی حج پر جانے پر پابندی ہوگی۔ مزید بتایا گیا ہے کہ ٹی بی اور کینسر کے زیر علاج مریض بھی حج پر نہیں جاسکتے۔ انفلوئنزا، ڈینگی اور کورونا کے مریض بھی حج پر نہیں جاسکتے۔
سرٹیفکیٹ کی ضروریات
اس کے علاوہ عازمین کے لیے گردن توڑ بخار، انفلوئنزا، کورونا اور پولیو سرٹیفکیٹ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے。








