مشتبہ شخص کو 3 ماہ حراست میں لیا جا سکے گا، انسداد دہشتگردی ایکٹ میں ترمیم کا بل اسمبلی میں پیش

اسلام آباد میں انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2024
اسلام آباد (ویب ڈیسک) قومی اسمبلی میں انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2024 منظوری کیلئے پیش کر دیا گیا ہے جس کے تحت کسی بھی مشتبہ شخص کو 3 ماہ تک حراست میں رکھا جا سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی کو کوئی چھوڑ کر نہیں گیا، ان سمیت سب بھاگے تھے: خواجہ آصف
بل کی تفصیلات
تفصیلات کے مطابق انسداد دہشتگردی ترمیم بل 2024 وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ مجوزہ ترمیم کے تحت مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ملکی سلامتی، دفاع اور امن و عامہ سے متعلق جرائم میں ملوث کسی شخص کو 3 ماہ تک حراست میں رکھنے کا اختیار ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا
حراست کی شرائط
مجوزہ ترمیمی بل کے مطابق تاوان، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور اغوا سے متعلق جرم پر بھی 3 ماہ زیر حراست رکھا جا سکے گا۔ حراست یا نظربندی کے دوران ملزم کو شفاف ٹرائل کا حق دیا جائے گا، 3 ماہ سے زائد نظربندی آرٹیکل 10 اے کے تحت ہو سکے گی، الزامات کی تحقیقات جے آئی ٹی کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 27 معاہدوں اور ایم او یوز پر دستخط
جے آئی ٹی کا قیام
مجوزہ ترمیمی بل کے مطابق جے آئی ٹی مسلح افواج، سول آرمڈ فورسز، انٹیلی جنس ایجنسیز کے نمائندوں اور ایس پی پولیس پر مشتمل ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی کا اجلاس کل ،وقت بھی تبدیل ،انسداد دہشت گردی ترمیمی بل منظور ہونے کا امکان
ترمیم کی پیشکش
انسداد دہشت گری ایکٹ کی شق 11 کی ذیلی شق 4 ای میں ترمیم وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے لائی گئی ہے۔
کمیٹی میں بھیجنا
ڈپٹی سپیکر نے بل متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔