حیدرآباد: ڈاکٹرز کی لاپرواہی، زندہ نومولود بچی کو مردہ کہہ کر والدین کے حوالے کردیا
حیدرآباد میں نومولود بچی کی ہلاکت
نجی سپتال میں نومولود بچی کی ہلاکت پر 2 لیڈی ڈاکٹرز اور ہسپتال ایڈمنسٹریٹر کے خلاف قتل بالسبب کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا فوج کے خلاف زبان استعمال کرنا پاکستان دشمنی ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف
واقعہ کی تفصیلات
خود والد نے بتایا کہ 28 اکتوبر کو بچی پیدا ہوئی اور 30 اکتوبر کو ڈاکٹر نے کپڑے میں لپیٹ کر بچی کے انتقال کی خبردی۔
یہ بھی پڑھیں: محکمہ داخلہ کے مرکزی کنٹرول روم سے 2306 جلوسوں اور 601 محافل میلاد کی مانیٹرنگ جاری
بچی کی حالت کا جائزہ
والد کے مطابق جب انہوں نے گھر آکر بچی کو دیکھا تو وہ زندہ تھی اور اس کے ہاتھ ہل رہے تھے۔ جس کے بعد بچی کو سول ہسپتال لے جایا گیا لیکن افسوسناک طور پر 31 اکتوبر کو شام میں بچی انتقال کرگئی۔
یہ بھی پڑھیں: خالی نہیں دنیائے ہوّس اہلِ وفا سے،کمیاب تو یہ لوگ ہیں نایاب نہیں ہیں،سٹیزن کونسل ملک کے سلگتے مسائل و موضوعات پر غور و فکر کرتی ہے۔
پولیس کی کارروائی
پولیس نے بچی کی ہلاکت پر 2 لیڈی ڈاکٹر اور ہسپتال ایڈمنسٹریٹر کے خلاف قتل بالسبب کا مقدمہ درج کرلیا۔
ملزمان کی ضمانت
والد کے مطابق پولیس نے انہیں بتایا کہ نامزد ملزمان نے عدالت سے ضمانت کرالی ہے اور عدالت نے ملزمان کو پولیس کے تعاون کا حکم دیا ہے اور 11 نومبر کو دوبارہ پیش ہونے کا کہا ہے۔








