لاہور میں دو بھائیوں کو کچلنے والی ملزمہ کا بیان ریکارڈ
لاہور میں دو بھائیوں کی ہلاکت
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور میں دو بھائیوں کی ہلاکت میں ملوث ملزمہ ایشا نے پولیس کو بیان ریکارڈ کرا دیا ہے۔ ملزمہ کا کہنا ہے کہ وہ یونیورسٹی جارہی تھی کہ دو افراد اچانک گاڑی کے سامنے آگئے اور اس نے گھبرا کر اپنی آنکھیں بند کرلیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا تل ابیب پر ’ہائپر سونک‘ الفتح میزائل داغے جانے کا دعویٰ
واقعہ کی تفصیلات
اکیس اکتوبر کو لاہور کے علاقے جنوبی چھاؤنی میں خاتون نے تیز رفتاری سے گاڑی چلاتے ہوئے دو نوجوانوں کو کچلا تھا۔ بیس سالہ نور الحسن اور اٹھارہ سالہ محمود الحسن دو روز قبل دوران علاج دم توڑ گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: لطیف کھوسہ کا چیف جسٹس پاکستان کو خط، بانی کی رپورٹس فراہم کرنے کا مطالبہ
بھائیوں کا پس منظر
شیخپورہ کے رہائشی دونوں بھائی آرمی بھرتی کے لیے کاغذات جمع کرانے لاہور آئے تھے۔ پولیس نے دونوں بھائیوں کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان پر روس کے حملے کے نتیجے میں 50 لاکھ مہاجرین کا سیلاب اْمڈ آیا،جس نے پاکستان کی معیشت اور معاشرے پر برے اثرات مرتب کیے
ملزمہ کا عبوری ضمانت حاصل کرنا
حادثے کے بعد ملزمہ ایشا نے مقامی عدالت سے 7 نومبر تک کے لیے عبوری ضمانت حاصل کرلی تھی، اور شامل تفتیش نہیں ہو رہی تھی۔ تفتیشی افسر نے خاتون ملزمہ کو بیان ریکارڈ کروانے کے لیے بلایا تھا لیکن ملزمہ نے اپنا کوئی بیان تفتیشی افسر کو نہیں دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کم عمری کی شادی کی ممانعت کا متنازعہ بل
ملزمہ کا بیان
لیکن آج ملزمہ نے پولیس کو جو بیان دیا اس میں اس کا کہنا تھا کہ وہ یونیورسٹی جارہی تھی کہ دو افراد اچانک گاڑی کے سامنے آگئے اور اس نے گھبرا کر اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ ملزمہ کے مطابق اس کے بعد کیا ہوا اسے کچھ پتہ نہیں۔ ملزمہ ایشا نے کہا کہ وہ گھبرا کر وہاں سے چلی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کے جناح اسپتال میں کامیاب کڈنی ٹرانسپلانٹ، بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی کو گردہ عطیہ کر دیا
پولیس کی کارروائی
پولیس نے لڑکی سے ڈرائیونگ لائسنس طلب کرلیا ہے، ملزمہ نے پہلے ہی عدالت سے عبوری ضمانت کرا رکھی ہے۔
مرحومین کی والدہ کا مطالبہ
مرحومین کی والدہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کا قتل معاف نہیں کریں گی، انہیں انصاف کے سوا کچھ نہیں چاہیے۔








