پُل سے گرایا گیا 7دن کا بچہ جانور کے کاٹنے کے باوجود زندہ بچ گیا
بچے کی حیرت انگیز کہانی
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی ریاست اُترپردیش کے ہمیرپور قصبے میں سڑک پر بنے پُل کے قریب ایک درخت سے لٹکتا ہوا بچہ پایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی کی قیمتوں میں کمی، نوٹی فیکیشن جاری
ادھر ادھر کی تفصیلات
این ڈی ٹی وی کے مطابق بچے کو اس کے والدین نے پُل سے گرایا تھا جس کی وجہ سے اسے 50 سے زائد چوٹیں آئی تھیں اور اسے کسی جنگلی جانور نے کاٹا بھی تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد زیر غور نہیں، رانا ثنا اللہ
علاج اور صحت کی بحالی
اس بچے کو ریسکیو کرنے کے بعد جب خانپور کے ایک ہسپتال میں پہنچایا گیا تو ڈاکٹروں کو امید نہیں تھی کہ وہ مزید زندہ رہ پائے گا لیکن مسلسل دو ماہ تک علاج کے بعد وہ اب صحت مند ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور قلندرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 95 رنز سے شکست دے کر فائنل میں جگہ بنا لی
بچے کا نام
خانپور ہسپتال کے ایک ڈاکٹر کے مطابق ’اس بچے کا نام کرشنا رکھا گیا تھا۔ اس بچے نے 26 اگست کو ایک ایسی زندگی جینے کی شروعات کی جو شاید اس کے لیے نہیں چاہی گئی تھی۔‘
یہ بھی پڑھیں: ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا، ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر تھی، کبھی کبھار کسی بھاگتے ہوئے گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز سنائی دے جاتی تھی، سارا شہر سو رہا تھا.
ہسپتال کا عملہ اور جذبات
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’علاج معالجے کی وجہ سے مکمل صحت مند ہونے کے بعد جب کرشنا نے ہسپتال چھوڑا تو شاید ہی ایسی کوئی آنکھ ایسی ہو جو اشکبار نہ ہوئی ہو۔ کرشنا سے ہسپتال کے عملے اور ڈاکٹرز کی خاصی دل لگی ہو گئی تھی اس وجہ سے اس کے ہسپتال سے جانے پر سب رنجیدہ تھے۔‘
یہ بھی پڑھیں: پی سی بی نے محمد یوسف کو بڑی خوشخبری سنانے کا فیصلہ کرلیا
ڈاکٹر کا بیان
لالی لاجپت رائے ہسپتال خانپور کے پرنسپل سنجے کالا کے مطابق کہ ’ہمیں یہ بچہ ہمیر پور کی ضلعی ہسپتال کی جانب سے ریفر کیا گیا تھا، اس بچے کو اس کے والدین کی جانب سے ایک اونچے پُل سے پھینکا گیا لیکن خوش قسمتی سے وہ نیچے آ کر زمین پر گرنے کی بجائے ایک درخت میں پھنس گیا۔ بچے کی پُشت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے کوؤں اور دوسرے جانوروں نے کاٹا بھی تھا۔ جب کرشنا ہمارے پاس پہنچایا گیا تو اس کے جسم پر 50 زخم تھے۔‘
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کا 1028 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش
جنم ستھامی اور خوش قسمتی
ہسپتال کے عملے نے بتایا کہ یہ بچہ 26 اگست کو ملا تھا۔ اس روز جنم ستھامی (ہندومت کا مذہبی تہوار) تھی، اس وجہ سے اس کا نام کرشنا رکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ 2 روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے
نرس کی محبت
ہسپتال کی ایک نرس کے مطابق جب کرشنا زخموں کے درد کی وجہ سے روتا تھا تو اسے وہ لوریاں سنا کر چُپ کرانے کی کوشش کرتی تھیں کیونکہ زخموں کی وجہ سے بچے کو اٹھایا نہیں جا سکتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: این اے 138، پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوار کی انتخابی درخواست منظور
ختم ہونے والا سفر
ڈاکٹر کالا کے مطابق دو ماہ تک جاری رہنے والے علاج معالجے کے بعد کرشنا صحت مند ہو گیا ہے۔ اسے 24 اکتوبر کو پولیس اور چائیلڈ پروٹیکشن کمیٹی کے حوالے کیا گیا۔
والدین کے بارے میں افسوس
ڈاکٹر کالا کہتے ہیں ’اگر والدین اسے نہیں بھی چاہتے تھے تو پُل سے نیچے تو نہ پھینکتے، وہ اسے ہسپتال چھوڑ جاتے، کسی مندر یا مسجد میں چھوڑ جاتے مگر یوں اسے گراتے نہ۔‘








