بھارت کی مشہور کمپنی نے بنگلہ دیش کی بجلی کاٹ دی
بنگلہ دیش میں بجلی کی فراہمی میں کمی
ڈھاکہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت کے اڈانی گروپ سے وابستہ بجلی گھروں نے بنگلہ دیش کے لیے بجلی کی رسد میں نمایاں کمی کردی ہے۔ اڈانی گروپ نے بنگلہ دیش کو فراہم کی جانے والی بجلی میں جو کٹوتی کی ہے اُس کے بعد اب بنگلہ دیش کو فراہم کی جانے والی بجلی 700 میگا واٹ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شہر قائد میں سڑکوں پر کرسیاں اور ٹیبل لگانے والے 103 ہوٹل سیل
بجلی کی رسد میں کمی کا سبب
اڈانی گروپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بنگلہ دیش کو بجلی کی رسد میں کمی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ واجبات زیادہ ہوچکے ہیں اور بنگلہ دیش کی طرف سے ادائیگی میں اضافہ نہیں کیا جارہا ہے۔ بنگلہ دیش کو اڈانی گروپ کے 84 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ادا کرنے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ میں پینی بننا بند، 114 ارب سکوں کا کیا بنے گا؟
ڈیلی اسٹار کی رپورٹ
بنگلہ دیش کے اخبار دی ڈیلی اسٹار نے جمعہ کو ایک رپورٹ میں بتایا کہ اڈانی گروپ کے ذیلی ادارے اڈانی پاور جھاڑ کھنڈ لمٹیڈ نے بنگلہ دیش کو فراہم کی جانے والی بجلی میں 50 فیصد کٹوتی کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ کا پرانا نام شالکوٹ تھا، انگریزوں نے 1876ء میں اس علاقے پر قبضہ کرکے عظیم شہر بسایا، یورپی انداز میں تعمیر کیا، اسے چھوٹا لندن بھی کہا جاتا تھا۔
بجلی کی کمی کا اثر
اڈانی گروپ کی طرف سے بجلی کی رسد میں کمی کے بعد اب بنگلہ دیش کو 1600 میگا واٹ کے شارٹ فال کا سامنا ہے۔ بھارتی ادارے نے اپنے 1496 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والے ادارے کا ایک یونٹ بند کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وسیم اکرم نے عمران خان کو بہترین کپتان قرار دے دیا
خط کے ذریعے مطالبہ
اڈانی پاور نے بنگلہ دیش پاور ڈیویلپمنٹ بورڈ کو 27 اکتوبر کو ایک خط بھیجا تھا جس میں واجبات ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ واجبات ادا نہ کیے جانے کی صورت میں 30 اکتوبر سے بجلی کی رسد گھٹادی جائے گی۔
بنگلہ دیش کے سیاسی حالات
دو ماہ جاری رہنے والی طلبہ تحریک کے نتیجے میں 5 اگست کو شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اب تک بنگلہ دیش سے بھارت کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔ شیخ حسینہ نے بھارت میں پناہ لے رکھی ہے۔ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت شیخ حسینہ کی حوالگی چاہتی ہے تاکہ ان پر سنگین جرائم کے ٹربیونل میں مقدمات چلائے جاسکیں۔








