شہرِ ہوائے غمزدہ،دیکھ بجھے چراغ کو۔۔۔۔
شامِ غمِ فراق
شامِ غمِ فراق میں، نغمہ نہ کوئی گا سکے
یاد میں آپ کی رہے یاد نہ پھر بھی آ سکے
ایسا نہیں کہ آپ کو، دیکھا نہیں ہے جانِ جاں
ایسا نہیں کہ آپ سے، دامن نہیں چھڑا سکے
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد احتجاج: پی ٹی آئی قیادت کے خلاف مقدمات کی حیران کن تفصیلات سامنے آئیں
نصیب اور عشق
اپنے نصیب میں نہ تھا تیرا شمار بھی اے دل
ہم بھی عزیز! چاہ کر تیری گلی نہ آ سکے
شہرِ ہوائے غمزدہ، دیکھ بجھے چراغ کو
جس کو لہو سے سینچ کر ہم بھی نہیں جلا سکے
آخری لمحات
بسترِ مرگ پر ندیم٫ ایک عجیب لاش تھی
دیکھ کے جس کو بار بار، آنسو نہیں تھما سکے








