شہرِ ہوائے غمزدہ،دیکھ بجھے چراغ کو۔۔۔۔
شامِ غمِ فراق
شامِ غمِ فراق میں، نغمہ نہ کوئی گا سکے
یاد میں آپ کی رہے یاد نہ پھر بھی آ سکے
ایسا نہیں کہ آپ کو، دیکھا نہیں ہے جانِ جاں
ایسا نہیں کہ آپ سے، دامن نہیں چھڑا سکے
یہ بھی پڑھیں: ممبئی ایئرپورٹ پر بوئنگ 737طیارے کو کارگو ٹرک نے ٹکر مار دی
نصیب اور عشق
اپنے نصیب میں نہ تھا تیرا شمار بھی اے دل
ہم بھی عزیز! چاہ کر تیری گلی نہ آ سکے
شہرِ ہوائے غمزدہ، دیکھ بجھے چراغ کو
جس کو لہو سے سینچ کر ہم بھی نہیں جلا سکے
آخری لمحات
بسترِ مرگ پر ندیم٫ ایک عجیب لاش تھی
دیکھ کے جس کو بار بار، آنسو نہیں تھما سکے








