ارشد ندیم کو گھر جاکر انعامات دیئے، مجھے دفتر بلاکر ہی دے دیں، حیدر علی
حیدر علی کی پریشانی
لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کے کامیاب ترین پیرا ایتھلیٹ حیدر علی کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں پیرالمپکس کو اولمپکس کے برابر ہی اہمیت دی جاتی ہے، پاکستان کیلئے پیرالمپکس میں 4 میڈلز جیتے لیکن وہ پذیرائی نہیں ملی جس کے وہ مستحق ہیں۔ ارشد ندیم کے تو گھر جاکر انعامات دیئے گئے تھے، مجھے دفتر بلاکر ہی دے دیں۔
یہ بھی پڑھیں: یوم تکبیر؛اسلام آباد ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں میں چھٹی کا اعلان
انعامات کی عدم مساوات
حیدر علی نے کہا کہ ارشد ندیم کو پالیسی سے بڑھ کر انعامات ملے اور مجھے پالیسی کے مطابق بھی نہیں، ارشد کو جو دیا اس کا تیسرا حصہ بھی مل جائے تو خوشی ہوگی۔ ان کی کامیابیوں کے پیچھے والدین اور فیملی کی مسلسل حمایت شامل ہے، جنہوں نے ہر قدم پر ساتھ دیا۔ پاکستان میں رہ کر عالمی سطح پر مقابلہ کرنا آسان نہیں، بلکہ اس کے لئے سخت محنت اور عزم کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلوریڈا سے واپسی پر ایئرپورٹ اترتے ہی میری لینڈ کی امریکی خاتون کو گرفتار کرلیا گیا کیونکہ ۔ ۔ ۔
حیدر علی کی شاندار کارکردگی
حیدر علی نے بتایا کہ وہ واحد پاکستانی ایتھلیٹ ہیں جنہوں نے 5 پیرا لمپکس میں کوالیفائی کیا اور ان میں سے چار میں میڈلز جیتے۔ ان کے میڈلز میں 1 گولڈ (ٹوکیو)، 1 سلور (بیجنگ) اور 2 برانز (ریو اور پیرس) شامل ہیں۔ انہوں نے پیرا لمپکس، پیرا ایشین گیمز اور ورلڈ چیمپئن شپ سمیت ہر سطح پر پاکستان کے لئے میڈلز جیتے ہیں اور اب تک 19 میڈلز حاصل کر چکے ہیں، جس میں 9 گولڈ، 4 سلور، اور 6 برانز شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 40 سے زائد مرتبہ حج کی سعادت حاصل کرنے والے سعودی عرب کے معمر ترین شخص کا انتقال
مالی مشکلات کا سامنا
حیدر علی نے بتایا کہ میڈلز جیتنے کے لئے محنت کے ساتھ ساتھ وسائل کی بھی ضرورت ہوتی ہے مگر پاکستان میں سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ واپڈا کے ملازم ہونے کے ناطے جو تنخواہ ملتی ہے، اس میں ٹریننگ کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں عالمی بینک کے سرکاری منصوبے سے 10 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد کی خردبرد کا بڑا مالیاتی اسکینڈل بے نقاب
حکومتی مدد کی کمی
ان کے پاس نہ تو مناسب سپانسرشپ ہے اور نہ ہی حکومتی سپورٹ، جس کے باعث انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی نے ہوم ورک کے بغیر احتجاج کی کال دی ہے، رانا ثنا اللہ
پیرا اولمپکس کی اہمیت
حیدر علی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ عالمی سطح پر پیرا اولمپکس کو اولمپکس کے برابر اہمیت دی جاتی ہے اور دیگر ممالک اپنے پیرا ایتھلیٹس کو اولمپکس ایتھلیٹس کے برابر انعامات دیتے ہیں مگر پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ہائی کمیشن لندن کا برطانیہ میں قونصلر خدمات کے فروغ کے لیے اہم اقدام، گھر گھر سہولیات پہنچانے کے اقدامات کمیونٹی میں اظہار اطمینان
سابق وزیر اعظم کی حمایت
جب وہ ریو پیرالمپکس میں برانز میڈل جیت کر آئے تو سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے انہیں انعام سے نوازا اور یہ واحد موقع تھا جب کسی وزیر اعظم نے انہیں بلایا مگر پیرس میں برانز میڈل جیتنے کے بعد وعدے کے باوجود ابھی تک انہیں کسی نے نہیں پوچھا۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی افریقن کپتان ٹیمبا باووما نے آسٹریلوی کھلاڑیوں پر سلیجنگ کا الزام لگا دیا
وزیر اعظم یوتھ پروگرام کا وعدہ
جب وہ پیرس سے واپس آئے تو وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود نے اپنے دفتر بلاکر وعدہ کیا تھا کہ جلد وزیر اعظم سے ملاقات کروائیں گے اور انعام دلوائیں گے لیکن 2 ماہ گزر چکے ہیں اور کوئی جواب نہیں ملا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ پنجاب کا سرگودھا میں 3 خواتین پر تشدد کا نوٹس ، رپورٹ طلب کر لی
دکھ اور مایوسی
حیدر علی نے کہا کہ انہیں دکھ ہوتا ہے کہ ان کی بےمثال کامیابیوں کے باوجود انہیں وہ عزت نہیں ملتی جس کے وہ حقدار ہیں۔ بھارت کے پلیئرز میڈل جیت کر آتے ہیں تو وزیر اعظم انہیں انعامات سے نوازتے ہیں، مگر پاکستان میں ایسا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کی نائب صدر ترکیہ سے ملاقات، معاشی شراکت داری کے فروغ پر اتفاق
بین الاقوامی پیشکشیں
جب وہ بیجنگ میں ورلڈ ریکارڈ توڑ چکے تھے تو کئی ممالک نے انہیں اپنی طرف سے کھیلنے کی پیشکش کی مگر انہوں نے ہمیشہ اپنے ملک کے لئے کھیلنے کو ترجیح دی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے کتنے جہاز آبنائے ہرمز میں پھنسے ہیں اور ایران نے گزرنے کی اجازت دینے کیلیے کیا شرط رکھ دی۔۔؟ جانیے
ارشد ندیم کا استقبال
حیدر علی نے ارشد ندیم کے شاندار استقبال کو دیکھ کر خوشی محسوس کی کیونکہ اسی گراؤنڈ پر انہوں نے بھی میڈل جیتا تھا۔ دل میں ایک خواہش تھی کہ شاید میرا بھی استقبال اسی طرح ہوگا۔
بحران کے باوجود مثبت سوچ
حیدر علی نے کہا کہ وہ ارشد ندیم کے انعامات سے خوش ہیں مگر انہیں اپنے حق کے مطابق پذیرائی نہیں ملی، ارشد ندیم کے تو گھر جاکر انعامات دیئے گئے تھے، مجھے دفتر بلاکر ہی دے دیں۔








