بین المذاہب ہم آہنگی، خواتین اور خواجہ سراؤں کی با اختیاری، پانی اور نکاسی آب کی بحالی: کراچی میں عوامی آگاہی مہم کا آغاز کر دیا
کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پروجیکٹ
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پروجیکٹ (KWSSIP) کا ذیلی پروجیکٹ ابتدائی طور پر کراچی کی دو کچی آبادیوں (عیسٰی نگری اور صوبہ نگر) میں پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ کچی بستیوں کے عوام کو سماجی طور پر متحرک اور بااختیار بنایا جانا بھی اس پروجیکٹ کے خاص مقاصد میں شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریٹیکس کیس میں ایف بی آر کے وکلا نے سیکشن 4 بی پر دلائل مکمل کر لیے
پروجیکٹ کی قیادت
کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پروجیکٹ کی جانب سے جینڈر سپیشلسٹ اور فوکل پرسن کچی آبادی پروگرام حمیدہ کلیم ہیں، جبکہ نیشنل رورل سپورٹ پروگرام (NRSP) کی نمائندگی جاوید اقبال کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کابینہ کا اجلاس کل دوپہر 11:30 بجے طلب، 39نکاتی ایجنڈا پیش
NRSP کی شمولیت
واضح رہے کہ NRSP نامی ادارہ بطور Implementing Partner اس پروجیکٹ میں شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیف: یوکرینی کرنل کو قتل کرنے والے روسی خفیہ سروس کے ارکان خصوصی آپریشن میں ہلاک
کچی آبادیوں کی صورتحال
کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پروجیکٹ کی جانب سے جینڈر سپیشلسٹ اور فوکل پرسن کچی آبادی پروگرام حمیدہ کلیم کا کہنا ہے کہ موجودہ وقت میں کچی آبادیوں میں پانی اور نکاسی آب کی صورتحال خراب ہے، عوام کو مشکلات کا سامنا ہے اور ان مشکلات کے حل کے لیے یہ پروجیکٹ کام کررہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شان مسعود کو 2027 تک ٹیسٹ ٹیم کا کپتان برقرار رکھے جانے کا قوی امکان
بین المذاہب ہم آہنگی
نیشنل رورل سپورٹ پروگرام کے نمائندے جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ یہ پروجیکٹ پانی اور نکاسی آب کی صورتحال کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ دیگر اہم سنگ میل بھی عبور کر رہا ہے، جیسے کہ اس پروجیکٹ کے تحت بین المذاہب ہم آہنگی بھی فروغ پا رہی ہے۔ کرسچن، مسلم اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو اس پروجیکٹ سے وابستہ ہو کر ایک ایسا پلیٹ فارم میسر آگیا ہے جہاں وہ مل جل کر اپنے علاقوں کی بہتری اور سماجی مسائل کو حل کرنے کے لیے پرعزم اور پرجوش ہیں۔
خواتین اور ٹرانس جینڈر کمیونٹی کی شمولیت
دوسرا یہ کہ خواتین اور خواجہ سراؤں کی شمولیت کو بھی ممکن بنایا گیا ہے تاکہ محرومی، بے بسی اور لاچارگی دم توڑ سکے اور بااختیاری اور خود مختاری ایک نیا جنم لے لے۔ خواتین اور ٹرانس جینڈر کمیونٹی اپنے علاقوں کی بہتری کے لیے آگے آسکیں گے، فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہوں گے، اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں گے اور اپنے سماجی کردار کو بااعتماد طریقے سے ادا کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔








