آج کی قانون سازی کے بعد آرمی چیف کی مدت ملازمت کم ہوگئی، رانا ثنااللہ
وزیراعظم پاکستان کے مشیر کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ آج کی قانون سازی کے بعد آرمی چیف کی مدت ملازمت کم ہوئی ہے، اس میں اضافہ نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل، لاہور قلندرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 88 رنز سے شکست دے دی
ماضی کی قانون سازی کا موازنہ
رانا ثناء اللہ نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ ماضی میں فوجی سربراہان 11 سال اور پھر چھ، چھ سال تک عہدوں پر رہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی، ٹرمپ کا حیران کن بیان آگیا
اختلاف رائے کا احترام
انہوں نے کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمان کو آج ہونے والی قانون سازی پر اعتراض ہے تو یہ ان کا حق ہے اور ان کے اختلاف رائے کا ہم احترام کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کرنے کی درخواست مسترد، میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم
اپوزیشن کی ترامیم
رانا ثناء کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن کو حکومت کی قانون سازی سے اختلاف تھا تو وہ آج اپنی ترامیم پیش کر سکتے تھے۔ اسپیکر نے کہا کہ پہلے وزیر قانون کی بات سنیں، بعد میں آپ کو موقع دیا جائے گا، مگر وہ بات کرنے کے موڈ میں ہی نہیں تھے۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف سے اتوار سے مذاکرات کا آغاز ہوسکتا ہے: رانا ثنا اللہ
اقتدار میں رہنے کی حقیقت
انہوں نے کہا کہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ الیکشن ہارنے کے باوجود 4 سال تک اقتدار میں رہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں لڑکے لاڈ پیار کی وجہ سے کام نہیں کرتے، انکی ٹریننگ ہونی چاہئے: اسما عباس
انسداد دہشتگردی ترمیمی بل
انسداد دہشتگردی ترمیمی بل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورت حال مخدوش ہے، جبکہ بلوچستان میں بھی ایسی ہی صورت حال ہے، اس لیے یہ قانون سازی وقت کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانیٔ پی ٹی آئی نے دھوکا دہی سے تصرف کر کے خیانت کی اور قومی خزانے کو نقصان پہنچایا، توشہ خانہ ٹو کیس کا تفصیلی فیصلہ آ گیا۔
پی ٹی آئی کا موقف
انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی یہ سمجھتی ہے کہ اس بل کو ان کے خلاف استعمال کیا جائے گا تو اس میں کوئی حقیقت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملتان میں 2026 کے پہلے مہمان کی آمد
قومی اسمبلی میں بل کی منظوری
واضح رہے کہ حکومت نے قومی اسمبلی میں 4 اہم بل پاس کیے ہیں، جن میں سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد چیف جسٹس سمیت 34 کردی گئی ہے، جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کی تعداد 9 سے بڑھا کر 12 کردی گئی ہے۔
فوجی سربراہان کی مدت ملازمت
اس کے علاوہ، فوجی سربراہان کی مدت ملازمت 3 سال سے بڑھا کر 5 سال کردی گئی ہے، جبکہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں ترمیم کی گئی ہے، جس کے مطابق چیف جسٹس، سینیئر جج اور آئینی بینچ کا سربراہ ججز کمیٹی میں شامل ہوں گے۔








