آج کی قانون سازی کے بعد آرمی چیف کی مدت ملازمت کم ہوگئی، رانا ثنااللہ
وزیراعظم پاکستان کے مشیر کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ آج کی قانون سازی کے بعد آرمی چیف کی مدت ملازمت کم ہوئی ہے، اس میں اضافہ نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کچھ نہیں کرسکی تو عمران خان کے بچے کیا کرلیں گے؟ طلال چودھری
ماضی کی قانون سازی کا موازنہ
رانا ثناء اللہ نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ ماضی میں فوجی سربراہان 11 سال اور پھر چھ، چھ سال تک عہدوں پر رہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کے شراب خانوں میں 50 سال پہلے ہونے والے دھماکوں کا حل نہ ہونے والا معمہ
اختلاف رائے کا احترام
انہوں نے کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمان کو آج ہونے والی قانون سازی پر اعتراض ہے تو یہ ان کا حق ہے اور ان کے اختلاف رائے کا ہم احترام کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر کے وفد کی خواجہ سعد رفیق سے ملاقات، یومِ الحاقِ پاکستان پر جلسے میں شرکت کی دعوت
اپوزیشن کی ترامیم
رانا ثناء کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن کو حکومت کی قانون سازی سے اختلاف تھا تو وہ آج اپنی ترامیم پیش کر سکتے تھے۔ اسپیکر نے کہا کہ پہلے وزیر قانون کی بات سنیں، بعد میں آپ کو موقع دیا جائے گا، مگر وہ بات کرنے کے موڈ میں ہی نہیں تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور سعودیہ کا دفاعی معاہدہ، عالمی میڈیا نے پیشرفت کو خطے کے لیے اہم قرار دے دیا
اقتدار میں رہنے کی حقیقت
انہوں نے کہا کہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ الیکشن ہارنے کے باوجود 4 سال تک اقتدار میں رہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 13 خوارج جہنم واصل
انسداد دہشتگردی ترمیمی بل
انسداد دہشتگردی ترمیمی بل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورت حال مخدوش ہے، جبکہ بلوچستان میں بھی ایسی ہی صورت حال ہے، اس لیے یہ قانون سازی وقت کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت میں مسافروں سے بھری گاڑی دریا میں جاگری، 7 افراد لاپتہ
پی ٹی آئی کا موقف
انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی یہ سمجھتی ہے کہ اس بل کو ان کے خلاف استعمال کیا جائے گا تو اس میں کوئی حقیقت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کاغان : سیاحوں کی گاڑی دریائے کنہار میں جاگری، میاں بیوی جاں بحق
قومی اسمبلی میں بل کی منظوری
واضح رہے کہ حکومت نے قومی اسمبلی میں 4 اہم بل پاس کیے ہیں، جن میں سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد چیف جسٹس سمیت 34 کردی گئی ہے، جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کی تعداد 9 سے بڑھا کر 12 کردی گئی ہے۔
فوجی سربراہان کی مدت ملازمت
اس کے علاوہ، فوجی سربراہان کی مدت ملازمت 3 سال سے بڑھا کر 5 سال کردی گئی ہے، جبکہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں ترمیم کی گئی ہے، جس کے مطابق چیف جسٹس، سینیئر جج اور آئینی بینچ کا سربراہ ججز کمیٹی میں شامل ہوں گے۔








