آج کی قانون سازی کے بعد آرمی چیف کی مدت ملازمت کم ہوگئی، رانا ثنااللہ
وزیراعظم پاکستان کے مشیر کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ آج کی قانون سازی کے بعد آرمی چیف کی مدت ملازمت کم ہوئی ہے، اس میں اضافہ نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: انٹرا پارٹی انتخابات، بلاول بھٹو 4 سال کے لیے پیپلز پارٹی کے چیئرمین منتخب
ماضی کی قانون سازی کا موازنہ
رانا ثناء اللہ نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ ماضی میں فوجی سربراہان 11 سال اور پھر چھ، چھ سال تک عہدوں پر رہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیض حمید کی سزا ابتداء، لمبا چوڑا انصاف کا سلسلہ رکے گا نہیں: فیصل واوڈا
اختلاف رائے کا احترام
انہوں نے کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمان کو آج ہونے والی قانون سازی پر اعتراض ہے تو یہ ان کا حق ہے اور ان کے اختلاف رائے کا ہم احترام کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کے پوش علاقے میں گلوکارہ رابی پیرزادہ کو ہراساں کیے جانے کا واقعہ، ملزم گرفتار
اپوزیشن کی ترامیم
رانا ثناء کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن کو حکومت کی قانون سازی سے اختلاف تھا تو وہ آج اپنی ترامیم پیش کر سکتے تھے۔ اسپیکر نے کہا کہ پہلے وزیر قانون کی بات سنیں، بعد میں آپ کو موقع دیا جائے گا، مگر وہ بات کرنے کے موڈ میں ہی نہیں تھے۔
یہ بھی پڑھیں: انارکلی کی تاریخی نیلا گنبد والی جگہ پر پنجاب حکومت کا بڑا اقدام، سائیکل مارکیٹ ختم ، خوبصورت پارک اور پارکنگ پلازہ بنایا جائے گا
اقتدار میں رہنے کی حقیقت
انہوں نے کہا کہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ الیکشن ہارنے کے باوجود 4 سال تک اقتدار میں رہے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر سیاست دان میثاق جمہوریت پر عمل کریں تو بہتر سیاسی ماحول پیدا ہو سکتا ہے، مولانا فضل الرحمان
انسداد دہشتگردی ترمیمی بل
انسداد دہشتگردی ترمیمی بل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورت حال مخدوش ہے، جبکہ بلوچستان میں بھی ایسی ہی صورت حال ہے، اس لیے یہ قانون سازی وقت کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر ملتان سلطانز کے پیسے بڑھائے تو میں۔۔’ علی ترین نے پی سی بی کو واضح پیغام پہنچا دیا
پی ٹی آئی کا موقف
انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی یہ سمجھتی ہے کہ اس بل کو ان کے خلاف استعمال کیا جائے گا تو اس میں کوئی حقیقت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کے پی ہاوس اسلام آباد سے وزیراعلیٰ علی امین کا انتہائی قیمتی سامان غائب
قومی اسمبلی میں بل کی منظوری
واضح رہے کہ حکومت نے قومی اسمبلی میں 4 اہم بل پاس کیے ہیں، جن میں سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد چیف جسٹس سمیت 34 کردی گئی ہے، جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کی تعداد 9 سے بڑھا کر 12 کردی گئی ہے۔
فوجی سربراہان کی مدت ملازمت
اس کے علاوہ، فوجی سربراہان کی مدت ملازمت 3 سال سے بڑھا کر 5 سال کردی گئی ہے، جبکہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں ترمیم کی گئی ہے، جس کے مطابق چیف جسٹس، سینیئر جج اور آئینی بینچ کا سربراہ ججز کمیٹی میں شامل ہوں گے۔








