آج کی قانون سازی کے بعد آرمی چیف کی مدت ملازمت کم ہوگئی، رانا ثنااللہ

وزیراعظم پاکستان کے مشیر کا بیان

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ آج کی قانون سازی کے بعد آرمی چیف کی مدت ملازمت کم ہوئی ہے، اس میں اضافہ نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: خواجہ آصف کا پاکستان ہاکی فیڈریشن کے مالی معاملات کی تحقیقات کا مطالبہ

ماضی کی قانون سازی کا موازنہ

رانا ثناء اللہ نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ ماضی میں فوجی سربراہان 11 سال اور پھر چھ، چھ سال تک عہدوں پر رہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کے 10ویں ایڈیشن کے لیے غیر ملکی کھلاڑیوں کی رجسٹریشن کا عمل شروع

اختلاف رائے کا احترام

انہوں نے کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمان کو آج ہونے والی قانون سازی پر اعتراض ہے تو یہ ان کا حق ہے اور ان کے اختلاف رائے کا ہم احترام کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی ماضی کے احتجاج سے کیسی فرق ہیں اور بشریٰ بی بی کا کیا کردار ہے؟

اپوزیشن کی ترامیم

رانا ثناء کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن کو حکومت کی قانون سازی سے اختلاف تھا تو وہ آج اپنی ترامیم پیش کر سکتے تھے۔ اسپیکر نے کہا کہ پہلے وزیر قانون کی بات سنیں، بعد میں آپ کو موقع دیا جائے گا، مگر وہ بات کرنے کے موڈ میں ہی نہیں تھے۔

یہ بھی پڑھیں: شرط لگا کر شراب کی 5 بوتلیں پینے والا 21 سالہ نوجوان ہلاک ہوگیا

اقتدار میں رہنے کی حقیقت

انہوں نے کہا کہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ الیکشن ہارنے کے باوجود 4 سال تک اقتدار میں رہے۔

یہ بھی پڑھیں: مشیش خان کا کنگنا رناوت کو کرارا جواب، انسٹاگرام پر زبردست چھترول

انسداد دہشتگردی ترمیمی بل

انسداد دہشتگردی ترمیمی بل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورت حال مخدوش ہے، جبکہ بلوچستان میں بھی ایسی ہی صورت حال ہے، اس لیے یہ قانون سازی وقت کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بورڈ آف پیس: پاکستان کی شمولیت اور تزویراتی تعلقات

پی ٹی آئی کا موقف

انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی یہ سمجھتی ہے کہ اس بل کو ان کے خلاف استعمال کیا جائے گا تو اس میں کوئی حقیقت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور کے قریب کالاشاہ کاکو میں ایک اور نوجوان کی گردن پر ڈور پھرگئی، ہسپتال داخل

قومی اسمبلی میں بل کی منظوری

واضح رہے کہ حکومت نے قومی اسمبلی میں 4 اہم بل پاس کیے ہیں، جن میں سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد چیف جسٹس سمیت 34 کردی گئی ہے، جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کی تعداد 9 سے بڑھا کر 12 کردی گئی ہے۔

فوجی سربراہان کی مدت ملازمت

اس کے علاوہ، فوجی سربراہان کی مدت ملازمت 3 سال سے بڑھا کر 5 سال کردی گئی ہے، جبکہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں ترمیم کی گئی ہے، جس کے مطابق چیف جسٹس، سینیئر جج اور آئینی بینچ کا سربراہ ججز کمیٹی میں شامل ہوں گے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...