جب لوگ محبت آمیز رویہ اپنانا چاہیں تو آپ کو چاہیے کہ آپ اپنی ذات کو اہم اور قابل قدر سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ بالکل نیا اور مختلف رویہ اپنائیں
مصنف اور مترجم
مصنف: ڈاکٹر وائن ڈبلیو ڈائر
ترجمہ: ریاض محمود انجم
قسط: 38
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ یا عام رہنما، قومی بیانیے کے مخالف کوئی گفتگو برداشت نہیں کی جائے گی، طلال چوہدری
اپنی کامیابی کا اعتراف
آپ کو ایسے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ابھی اس قسم کا فقرہ کہا ہے: ”میں واقعی ذہین اور سمجھدار نہیں ہوں، صرف خوش قسمتی سے میں امتحان میں اعلیٰ درجہ حاصل کر سکا۔“ اب آپ کے ذہن میں یہ گھنٹی بجنی چاہیے: ”میں نے یہ کامیابی حاصل کی ہے اور اس ضمن میں، میں نے اپنی ذات پر بھروسہ اور اعتماد پر مبنی رویہ اور طرزعمل اپنایا۔ میں اب وہ باتیں نہیں کروں گا جو میں ہمیشہ سے کرتا آیا ہوں۔“
یہ بھی پڑھیں: انگلینڈ کے خلاف پاکستان کی مضبوط پوزیشن: ‘یہ سعود شکیل کی بہترین سنچری ہے’
نئے رویے کا آغاز
آپ کی حکمت عملی یہ ہونی چاہیے، باآواز، بلند اعلان اس فقرے کو کہتے ہوئے اپنے آپ میں بہتری لانے اور اصلاح کرنے کی کوشش کریں۔”میں نے ابھی کہا کہ محض خوش قسمتی کے ذریعے میں اس امتحان میں کامیاب ہوا لیکن اس میں خوش قسمتی کا کوئی دخل نہیں۔ میں نے یہ اعلیٰ کامیابی محض اس لیے حاصل کی ہے کہ کیونکہ میں اس کامیابی کا مستحق اور حقدار تھا۔“
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات کا اسٹاک مارکیٹس کو دو دن کے لیے بند کرنے کا فیصلہ
نئی عادات کی تشکیل
اپنے وجود، ذات اور بدن سے محبت و چاہت کے اظہار کے ضمن میں ایک معمولی سا قدم یہ ہے کہ ”موجود لمحے“ کو پہچانیں اور پرانے رویوں وعادات کو ترک کر کے نیا اور مختلف رویہ اور طرزعمل اپنائیں۔ آپ کا یہ فعل ایسے ہی ہے جیسے آپ نے بچپن میں محنت اور بار بار کوشش کے ذریعے موٹرسائیکل چلانا سیکھا تھا، پھر بالآخر آپ ایک ایسی نئی عادت اپنا لیں گے جس کے لیے آپ کو مستقل آگہی اور ادراک کی ضرورت محسوس نہیں ہو گی۔ اور پھر آپ جلد ہی قدرتی طور پر ایسے رویے اپنانے لگیں گے جو آپ کے بدن کے ساتھ آپ کی محبت، پیار، دیکھ بھال و نگہداشت کی مظہر ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: اوورسیز پاکستانی دیار غیر میں ہمارے سفیر
اپنے وجود کی قدر جانیں
اب آپ کے ذہن میں اس قسم کے تمام خیالات اور احساسات پیدا ہوں گے جن کے باعث آپ خود کو حقیر اور نالائق سمجھنے کے بجائے وہ سرگرمیاں، مصروفیات اور عادات اپنائیں گے جن کے ذریعے آپ اپنے وجود، ذات اور بدن کے لیے زیادہ سے زیادہ پیار، محبت، دیکھ بھال اور نگہداشت کے عالم میں داخل ہو سکیں گے۔ ذیل میں ان امور اور عادات و سرگرمیوں کی ایک مختصر فہرست دی جا رہی ہے جن کے ذریعے آپ اپنی ذات اور بدن کی قدروقیمت اور اہمیت کی بنیاد پر خوداعتمادی کا احساس اور شعورِ خودقدری حاصل کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان رجیم کے 297 کارندے ہلاک، 29 مقامات کو فضائی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا ، وفاقی وزیر اطلاعات
محبت کا اظہار
جب لوگ آپ کے ساتھ محبت آمیز رویہ اپنانا چاہیں تو آپ کو چاہیے کہ آپ اپنی ذات کو اہم اور قابل قدر سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ ایک بالکل نیا اور مختلف رویہ اپنائیں۔ ان کی طرف سے محبت و چاہت کے اظہار پر فوری طور پر شک کرنے کے بجائے ان کے جذبہ خیرسگالی کا احترام کرتے ہوئے انہیں ”آپ کا شکریہ“ یا ”میں بہت خوش ہوں“ جیسے جواب سے نوازیں۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت وفاقی شرعی عدالت کی عمارت میں منتقل ہوگئی
ذاتی احترام
اگر آپ واقعی کسی کے لیے اپنے دل میں محبت و چاہت محسوس کرتے ہیں تو پھر بغیر لگی لپٹی رکھے ہوئے اس کے سامنے اظہار محبت کریں اور اس کی طرف سے وصول ہونے والے جواب کا جائزہ لیتے ہوئے خطرہ مول لینے پر اپنے آپ کو شاباش دیں۔ ریستوران میں خورونوش کے لیے وہ چیز منگوائیں جو آپ کو بہت پسند ہو لیکن قیمت کی پرواہ نہ کریں۔ اپنے آپ کی دعوت کریں کیونکہ آپ اس دعوت کے مستحق اور قابل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2026 اور پاکستان کا پہلا گرین بلڈنگ کوڈ منظور کر لیا
اپنی پسند کا انتخاب
ان تمام چیزوں کی فہرست تیار کریں بشمول سوداسلف کی دکان کے جنہیں آپ ہر قسم کی صورتحال میں پسند کریں گے۔ آپ ہمیشہ اپنی پسندیدہ شے کا انتخاب کریں کیونکہ آپ اس قدر اہم اور قابل قدر ہیں کہ اپنی پسندیدہ چیز استعمال کر سکیں۔ اپنے وجود، اپنی پسند، اپنی ذات و بدن کو اس وقت تک حقیر نہ سمجھیں یہ قطعی لازمی نہ ہو اور اس کا موقع کبھی کبھار ہی آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی اسمبلی تقریر پورے صوبے کی ترجمانی تھی، عوام کا جبری انخلا کروا کر کہتے ہم نے نہیں کیا، اب ہم ان کو بھاگنے نہیں دیں گے،شفیع جان
آرام کی اہمیت
دن بھر کام کرنے کے بعد تھک جانے پر اور پھر بہت ہی شاندار کھانا کھانے کے بعد مزید مصروفیات موجود ہونے کے باوجود قیلولہ کریں۔ اس کے ذریعے آپ سو فیصد بہتر محسوس کریں گے۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








