سپریم کورٹ میں 13سے زیادہ ججز نہیں ہونے چاہئیں، فواد چوہدری
فواد چوہدری کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ آبادی کے لحاظ سے سپریم کورٹ میں 13 سے زیادہ ججز نہیں ہونے چاہئیں۔ بھارت کی سوا ارب کی آبادی ہے وہاں 33 ججز ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نئے اور جدید ہتھیاروں کے ذریعے دشمن کے اندازوں کو الٹ دیں گے: ایرانی کمانڈر
بین الاقوامی موازنہ
ہم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں 12، امریکہ میں 9 اور جرمنی میں 16 ججز ہیں۔ سپریم کورٹ میں 25 ہزار سے زائد مقدمے نہیں ہیں، اور سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں ہو پا رہا۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے اضافہ، فی تولہ کہاں پہنچ گئی؟جانیے
سیاسی مقدمات کا مسئلہ
انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیادہ تر سیاسی کیسز ہیں۔ میرے اوپر بھی انسداد دہشت گردی عدالت میں 40 کیسز ہیں، اعظم سواتی اور بانی پی ٹی آئی کی بہنوں پر بھی کیسز ہیں۔ 47 ہزار سے زائد کیسز اس وقت عدلیہ میں نچلی سطح پر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جمہوریہ اسلامی ایران کی وزارتِ خارجہ کا اسرائیل اور امریکہ کی جارحیت کے حوالے سے اعلامیہ جاری
ججز کی تعداد میں اضافہ
ججز کی تعداد بڑھانا جوڈیشری میں کوئی ریفارمز نہیں ہے۔ پنجاب میں بہت سارے ججز کی اسامیاں خالی ہیں، امتحانات ہوئے مگر بہت سارے وکیل اس میں کوالیفائی بھی نہیں کر سکے۔
سیاسی جماعتوں کا کردار
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ آصف زرداری اور نواز شریف کی ان معاملات میں کیا پوزیشن ہے؟








