قومی اسمبلی ، سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد سے متعلق بل منظور
سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد میں اضافہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 34 کرنے کا بل قومی اسمبلی سے منظور کرلیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جامعۂ پنجاب کا 135ویں سالانہ کانووکیشن، الیزے شبیر خان کے لیے تین گولڈ میڈلز کا اعزاز
اجلاس کی تفصیلات
ایکسپریس نیوز کے مطابق سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں قرارداد سے قبل وقفہ سوالات معطل کرنے کی تحریک وزیر قانون کی جانب سے پیش کی گئی، جس کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر داخلہ محسن نقوی کی سری لنکا کے سیکرٹری دفاع سے ملاقات
قانون کی پیشکش
اس کے بعد وزیر قانون نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیا، جس میں سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد بڑھا کر 34 جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کی تعداد بڑھا کر 12 کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسیقی کی آوازیں بھی آنا شروع ہوگئی تھیں، سنگترے کا رس اور کباب کی پلیٹ منگوا لی، مصریوں کے بیلے اور کیبرے ڈانس کے بارے میں بڑا کچھ سنا تھا
اپوزیشن کا ردعمل
بل پیش کرنے کے دوران قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے شدید ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی کی، تاہم اس دوران وفاقی وزیر قانون نے بل کے نکات سے ایوان کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی رجسٹری میں ہزاروں کی تعداد میں مقدمات زیر التوا ہیں، جس کی بنیاد پر ججز کی تعداد بڑھانا ضروری ہے۔
ہائیکورٹ کی تعداد میں تبدیلی
اسی کے ساتھ وزیر قانون نے اسلام آباد ہائیکورٹ ترمیمی بل 2024 قومی اسمبلی میں پیش کیا اور بتایا کہ ہائیکورٹ میں ججز کی تعداد 9 سے بڑھا کر 12 کی جا رہی ہے۔








