جوڈیشل کمیشن اجلاس؛ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ قائم کرنے کا فیصلہ
اجلاس کی تفصیلات
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) جوڈیشل کمیشن اجلاس میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا: دہشتگردوں کے بنوں میں کوآڈ کاپٹر سے حملہ، خاتون جاں بحق، 3 بچے زخمی، عوام خوفزدہ
اجلاس کی صدارت
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں بنچ میں ہر صوبے سے دو دو جج شامل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں آج پھر بڑا اضافہ ریکارڈ
آئینی بنچ کا تناسب
ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن میں آئینی بنچ کا فیصلہ سات اور پانچ کے تناسب سے ہوا۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، منصور علی شاہ، منیب اختر، عمر ایوب اور شبلی فراز نے جسٹس امین الدین کی سربراہی میں آئینی بنچ کی مخالفت کی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے پر بھارت کا ردعمل بھی آ گیا
سینئر ججز کی عدم شمولیت
ذرائع کے مطابق تینوں سینئر جج آئینی بنچ میں شامل نہیں ہوں گے۔ جسٹس عائشہ ملک، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس جمال مندوخیل آئینی بنچ کا حصہ ہوں گے۔
آئینی بنچ کی تشکیل
ذرائع کے مطابق آئینی بنچ کے لئے سپریم کورٹ کے 2 ججز لئے گئے ہیں۔ پنجاب سے جسٹس امین الدین اور جسٹس عائشہ ملک آئینی بنچ میں شامل ہیں، سندھ سے دو ججز آئینی بنچ میں شامل ہیں، اس کے علاوہ سندھ سے جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اظہر حسن رضوی لئے گئے ہیں، بلوچستان سے جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان آئینی بنچ میں لئے گئے ہیں۔








