دنیا کا پہلا لکڑی سے بنا سیٹلائٹ خلا میں بھیج دیا گیا

جاپان کا دنیا کا پہلا لکڑی سے بنا مصنوعی سیارہ
ٹوکیو (ڈیلی پاکستان آن لائن) جاپانی ڈویلپرز نے منگل کو دنیا کا پہلا لکڑی سے بنا مصنوعی سیارہ (سیٹلائٹ) اسپیس ایکس راکٹ کے زریعے خلا میں روانہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دادی خوددار اور نظم وضبط کی پابند تھیں، میری 2 پھوپھیوں اور چچا کی شادی پاکستان بننے کے بعد ہوئی، مجال ہے کسی سے ایک ٹکا بھی ادھار لیا ہو
لکڑی کے مواد کا ماحول پر اثر
کیوٹو یونیورسٹی کے سائنس دان توقع کرتے ہیں کہ جب ڈیوائس دوبارہ زمینی ماحول میں داخل ہوگی تو اس کا لکڑی کا مواد جل جائے گا، جس سے ریٹائرڈ سیٹلائٹ کے زمین پر واپسی کے دوران فضا میں دھاتی ذرات کو پھیلنے سے روکنے میں مدد ملے گی۔
یہ بھی پڑھیں: خیرپور سے اغوا 12 افراد کو پولیس نے بازیاب کرالیا
LignoSat: تجرباتی سیٹلائٹ
ڈویلپرز کا کہنا ہے کہ یہ دھاتی ذرات ماحولیات اور ٹیلی کمیونیکیشن دونوں پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔ اس باکس نما تجرباتی سیٹلائٹ کا نام لگنو سیٹ (LignoSat) ہے، جو صرف 10 سینٹی میٹر (چار انچ) کا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور بھارت میں اچانک جنگ بندی کیسے ہوئی؟ سی این این نئی تفصیلات سامنے لے آیا
لانچ کی تفصیلات
کیوٹو یونیورسٹی کے ہیومن اسپیسولوجی سینٹر نے بتایا کہ اسے فلوریڈا میں ناسا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے بغیر پائلٹ کے راکٹ پر لانچ کیا گیا۔
جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی کی طرف سے تیار کردہ ایک خصوصی کنٹینر میں نصب سیٹلائٹ، "خلا میں بحفاظت چھوڑا گیا"۔
اس کے شریک ڈویلپر سومیٹومو فاریسٹری کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ لانچ "کامیاب" رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی نے حکومت سے مذاکرات کیلئے مطالبات کا ڈرافٹ تیار کر لیا
آئندہ کے مراحل
انہوں نے کہا کہ یہ سیٹلائٹ ’جلد ہی ISS پر پہنچے گا، اور تقریباً ایک ماہ بعد اسے بیرونی خلا میں چھوڑ دیا جائے گا‘ تاکہ اس کی طاقت اور استحکام کو جانچا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ نے میڈیکل کالجز میں داخلے روک دیئے، حکم امتناع جاری
ڈیٹا کا تجزیہ
سیٹلائٹ سے ڈیٹا محققین کو بھیجا جائے گا جو تناؤ کی علامات کی جانچ کر سکتے ہیں اور یہ تعین کر سکتے ہیں کہ آیا سیٹلائٹ درجہ حرارت میں انتہائی تبدیلیوں کو برداشت کر سکتا ہے۔
مستقبل کے سیٹلائٹس
کیوٹو یونیورسٹی کے ایک خلاباز اور خصوصی پروفیسر تاکاؤ ڈوئی نے اس سال کے شروع میں ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’وہ سیٹلائٹ جو دھات سے نہیں بنے ہیں، انہیں مرکزی دھارے میں شامل ہونا چاہیے۔‘