جسٹس امین الدین خان آئینی بینچ کے سربراہ مقرر،جوڈیشل کمیشن اجلاس کا اعلامیہ جاری
اجلاس کا اعلامیہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے آج ہونے والے اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل انیل چوہان کا اپنے ہی ملک کی دفاعی صنعت پر عدم اعتماد کا اظہار
اجلاس کی تفصیلات
جوڈیشل کمیشن اجلاس کا اعلامیہ سیکرٹری جوڈیشل کمیشن جزیلہ اسلم نے جاری کیا۔ 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد نوتشکیل شدہ جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس ہوا جس کی صدارت چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کی۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں جسٹس منصورعلی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین، وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، فاروق ایچ نائیک، شبلی فراز، شیخ آفتاب، عمرایوب اور روشن خورشید نے اجلاس میں شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: حکمران کے اندر انسانیت اور خدا ترسی موجود ہو تو عہدے کے تکبر میں نہیں رہتا :عظمیٰ بخاری
اجلاس کی کارروائی
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ چیف جسٹس نے شرکا کو خوش آمدید کہا اور ان کی نامزدگی پر مبارکباد دی۔ عمرایوب نے ایک رکن کی غیرموجودگی میں کمیشن کے کورم پر اعتراض کیا لیکن عمرایوب کے اعتراض پر ووٹنگ کے ذریعے اکثریت نے فیصلہ کیاکہ اجلاس آئین کے مطابق ہے اور ایک رکن کی غیرموجودگی میں بھی اجلاس جاری رکھا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: طاہر اشرفی نے صدر مملکت سے نازک صورتحال میں کردار ادا کرنے کی درخواست کردی
سکریٹریٹ کا قیام
اعلامیے کے مطابق کمیشن نے اپنے کام کو انجام دینے کے لیے ایک مخصوص سیکرٹریٹ کے قیام پر غور کیا اور غور و فکر کے بعد چیف جسٹس کو مخصوص سیکرٹریٹ کی قواعد سازی اور قیام کی اجازت دی۔
یہ بھی پڑھیں: مجھے قطر سمیت دیگر ملکوں سے دھمکی آمیز کالز آ رہی ہیں، میری اہلیہ کو کہا گیا کہ طلاق دیدیں، طیب بلوچ کا نجی ٹی وی میں انکشاف
آئینی بینچ کا قیام
کمیشن نے آئینی معاملات/کیسز پر غور کے لیے آئینی بینچ کے قیام پر بھی غور کیا، چیف جسٹس نے آئینی بینچ پر ججوں کی رائے پیش کی اور بینچ کی مدت بارے تجاویز دیں، دیگر شرکا نے بھی موضوع پر اپنی آراء کا اظہار کیا جس پر مکمل بحث کی گئی۔
آئینی بینچ کے اراکین
اعلامیے کے مطابق جسٹس امین الدین خان آئینی بینچ کے سربراہ ہوں گے، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اخترافغان آئینی بینچ میں شامل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ کے بحران پر امریکا کا نیا مؤقف، مسلم قیادت کو 21 نکاتی پلان پیش کر دیا
منظوری اور نمائندگی
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ووٹنگ کے بعد اکثریت (12 میں سے 7) نے آئینی بینچ کے قیام کی منظوری دی اور آئینی بینچ میں چاروں صوبوں کی نمائندگی شامل ہے، مدت 2 ماہ مقرر کی گئی ہے۔ جوڈیشل کمیشن کا ابتدائی اجلاس کمیشن کے افعال کو آگے بڑھانے میں پروسیجرل قدم کی حیثیت رکھتا ہے اور جوڈیشل کمیشن نئے فریم ورک کے مطابق عملدرآمد کی طرف پیشرفت کررہا ہے۔
اجلاس کا اختتام
اجلاس کے اختتام پرچیئرمین کمیشن چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ارکان کا شکریہ ادا کیا۔








