تاجر دوست سکیم: بڑے دکانداروں کیخلاف کارروائیاں ہونگی
ایف بی آر کی تاجر دوست سکیم میں تبدیلیاں
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) تاجر دوست سکیم میں بڑی تبدیلیاں لانے کا عندیہ دے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نان سموکرز میں پھیپھڑوں کا کینسر کیوں پھیل رہا ہے؟
بڑے خوردہ فروشوں کے خلاف کارروائیاں
ادارہ چھوٹے خوردہ فروشوں یا تاجروں سے ٹیکس وصول کرنے کے بجائے معتبر معلومات کی بنیاد پر بڑے خوردہ فروشوں کے خلاف کارروائیاں شروع کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارے باغی افغانستان میں حکومتی سرپرستی میں رہ رہے ہیں: سرفراز بگٹی
نئی پالیسی کے تحت رجسٹریشن
ایف بی آر اب ریٹرنز، ڈیٹا سکیورٹی اور کمرشل بجلی کی کھپت کے ڈیٹا کے تجزیے کی بنیاد پر بڑے ریٹیلرز، دکانداروں/تاجروں کو رجسٹر کرے گا اور فی دکان/ریٹیل آﺅٹ لیٹ پر فکسڈ ٹیکس کی موجودہ پالیسی کو معطل کر دے گا۔
یہ بھی پڑھیں: فیصل آباد، شوہر نے مبینہ طور پر غیرت کے نام پر بیوی کو قتل کردیا
آئی ایم ایف کی توثیق کا سوال
اس پالیسی پر نظرثانی کی آئی ایم ایف نے توثیق کی ہے یا نہیں یہ سب سے بڑا سوالیہ نشان ہوگا کیونکہ تاجر دوست سکیم مطلوبہ محصول وصول کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لیسکو نے بڑی سہولت متعارف کرا دی
ریونیو کے اہداف
پہلی سہ ماہی میں ہدف 10 ارب روپے رکھا گیا تھا اور دوسری سہ ماہی (اکتوبر-دسمبر) کی مدت کے لئے ٹی ڈی ایس کی وصولی 23.4 ارب روپے تک جانے کا ہدف تھا۔
ٹی ڈی ایس کی وصولی کا منصوبہ
ایف بی آر نے رواں مالی سال کے دوران ٹی ڈی ایس کے ذریعے 50 ارب روپے کی وصولی کےلئے آئی ایم ایف سے اتفاق کیا ہے۔








