ڈینگی کا پھیلاؤ روکنے کے لیے مچھروں کو بہرہ کرنے کا منصوبہ
ڈینگی بخار کی روک تھام کے نئے طریقے
کیلیفورنیا (ڈیلی پاکستان آن لائن) ماہرین نے کہا ہے کہ مچھروں کو بہرا کرنے سے ڈینگی بخار کا پھیلاؤ روکا جاسکتا ہے۔ سائنس دانوں نے trpVa نامی پروٹین کو نشانہ بنایا ہے جو قوتِ سماعت کے لیے غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شکریہ وزیر اعلیٰ
زرد بخار اور زیکا کے خلاف کوششیں
ڈینگی اور زرد بخار (Zika) کو روکنے کے لیے ماہرین ایک طویل عرصے سے کوششیں کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں بہت سے تجربے بھی کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یہ پاکستان کا علاقہ ہے، فیصلے ہم کریں گے کہ یہاں کون رہے گا اور کون نہیں: ترجمان دفتر خارجہ
مچھروں کی سماعت کو نشانہ بنانا
اب کہا جارہا ہے کہ مچھروں کو قوتِ سماعت سے محروم کرنے کی صورت میں ڈینگی، زرد بخار اور زیکا کے پھیلاؤ کو روکنے میں خاصی مدد مل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب: وزراء کی تنخواہ میں اضافے کے بعد لیو الاؤنس بھی بڑھانے کا فیصلہ
نر اور مادہ مچھر کے ملاپ میں رکاوٹ
مچھروں کو بہرا کرنے کا بنیادی مقصد نر اور مادہ مچھروں کو ملاپ کے لیے ملنے سے روکنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ گل پلازہ: کسی سیاسی جماعت کے دباؤ میں نہیں آئیں گے، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھ رہے ہیں: شرجیل میمن
مچھر کی آواز کا کردار
نر اور مادہ دونوں ہی مچھر پرواز کے دوران ایک منفرد فریکوئنسی کے ساتھ اپنے پروں کے ذریعے آواز پیدا کرتے ہیں۔ نر مچھر پروں کی اِس آواز کو سن کر ہی متوجہ ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اراکین پنجاب اسمبلی نے 2025 میں قومی خزانے کو کتنے ارب کا نقصان پہنچایا؟ تفصیلات سامنے آگئیں
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے محققین کی کامیابی
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے محققین نے کچھ تجربات کیے ہیں اور نر مچھروں کی قوتِ سماعت کو نشانہ بنانے کا سوچا۔ لیب میں تجربات کے دوران کبھی کبھار ایک ہی پنجرے میں رکھنے کی صورت میں مادہ مچھروں کی طرف نر مچھروں کی توجہ بھی نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے کینیڈین ہم منصب انیتا آنند کی ٹیلیفونک گفتگو
trpVa پروٹین کی اہمیت
ان محققین نے trpVa کو نشانہ بنایا اور بہت حد تک کامیاب رہے۔ جن مچھروں میں یہ پروٹین نہیں تھی، وہ مادہ مچھروں کی طرف متوجہ نہیں ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: 200 روپے مالیت کے پرائز بانڈ کی قرعہ اندازی کردی گئی، پہلا انعام 7 لاکھ 50 ہزار روپے کا نکلا
مردم شماری میں مچھروں کا کردار
ہر سال مادہ مچھروں کے ہاتھوں کم و بیش 40 انسانوں میں مختلف بیماریاں پھیلتی ہیں۔ اب ماہرین مچھروں کی افزائشِ نسل روک کر ڈینگی اور زرد بخار وغیرہ کی روک تھام چاہتے ہیں۔
نئے نظریات اور مستقبل کے امکانات
مچھروں کو بہرا کرنے کے ساتھ ساتھ سائنسدان نس بندی والے مچھروں کو مچھروں کی زیادہ افزائش والے علاقوں میں چھوڑنے کے آپشن پر بھی غور کر رہے ہیں۔








