صوبائی وزیر مائنز اینڈ منرل سردار شیر علی گورچانی کا دورہ ساہیوال، اہم اجلاس کی صدارت کی
صوبائی وزیر کا دورہ ساہیوال
ساہیوال (ڈیلی پاکستان آن لائن) صوبائی وزیر مائنز اینڈ منرل سردار شیر علی گورچانی کا دورہ ساہیوال، کمشنر آفس میں صارف کو ریت کی کنٹرول ریٹ پر فروخت یقینی بنانے کے لیے ہونے والے اجلاس کی صدارت کی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کی آئی اے ای اے کے نمائندے کو ملک سے نکالنے کی دھمکی
اجلاس کے شرکاء
اجلاس میں کمشنر ساہیوال ڈویژن شعیب اقبال سید، آرپی او محبوب رشید، ممبر صوبائی اسمبلی ملک قاسم ندیم، ڈائریکٹر جنرل مائنز پنجاب منصور احمد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ساہیوال اورنگزیب، ضلعی انتظامیہ کے افسران اور لیز ہولڈرز نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: کیا آپ لوگ دو پیٹشنر ہیں؟ مطیع اللہ جان کا اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے پر جسٹس محسن اختر کیانی سے سوال
صوبائی وزیر کے خطابات
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سردار شیر علی گورچانی نے کہا کہ پنجاب حکومت صارف کے مالی استحصال کی قطعاً اجازت نہیں دے گی اور ساہیوال اور اوکاڑہ میں ریت کی ٹرالیوں کی اوورچارجنگ کو سختی سے روکا جائے گا۔
صوبائی حکومت نے ریت کی فروخت کو بھی ضروری اشیاء کی فہرست میں شامل کر دیا ہے اس لیے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس ریت کی اوورچارجنگ پر بھی نظر رکھیں۔ انہوں نے تینوں اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ سرکاری ریٹ 2465 روپے فی سوسکوائر فٹ پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارا اور پی ٹی آئی کا مفاد ایک تھا اس لیے نشستیں پی ٹی آئی کو ملنے پر اعتراض نہیں، وکیل فیصل صدیقی کا مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی کیس میں بیان
مذاکرات کی دعوت
انہوں نے لیز ہولڈر کے مطالبے پر انہیں مذاکرات کے لیے کل بروز جمعہ لاہور ملاقات کی دعوت بھی دی۔
یہ بھی پڑھیں: یو ایف سی کمنٹیٹر جو روگن نے شراب نوشی ہمیشہ کیلئے چھوڑ دی، وجہ کیا بنی؟
کمشنر ساہیوال کی یقین دہانی
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر ساہیوال شعیب اقبال سید نے یقین دہانی کرائی کہ تینوں اضلاع کی انتظامیہ حکومت کے نوٹیفیکیشن کے مطابق ریت کے نرخوں پر عمل درآمد کے لیے ضروری اقدامات کرے گی تاکہ عام صارف کا استحصال نہ ہو۔
اوورچارجنگ کی شکایات
قبل ازیں اسسٹنٹ ڈائریکٹر مائنز ساہیوال اورنگزیب نے بتایا کہ ڈویژن کے چھوٹے شہروں اور قصبات میں ریت کے سرکاری نرخوں پر عموماً عمل درآمد ہوتا ہے تاہم ساہیوال اور اوکاڑہ شہروں میں اوورچارجنگ کی مسلسل شکایات موصول ہو رہی ہیں۔








