بابائے قوم جانتے تھے کسی ریاست کو مذہب کے نام پر نہیں چلایاجا سکتا،انکی وفات کے بعد ملک میں وہ قانون اور نظریہ نہیں رہا جس پر وہ عمل کرنا چاہتے تھے
مصنف: جسٹس (ر) بشیر اے مجاہد
قسط: 77
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟
پاکستان کی عدلیہ اور شکایات
پاکستان کی عدالتوں سے سیاسی حلقوں اور عوام کو بہت سی شکایتیں ہیں۔ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ کی وفات کے بعد اس ملک میں وہ قانون اور نظریہ نہیں رہا جس پر قائداعظم عمل کرنا چاہتے تھے۔ بابائے قوم ایک روشن دماغ سیاست دان تھے وہ جانتے تھے کہ کسی ریاست کو مذہب کے نام پر نہیں چلایاجا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: جولائی تا دسمبر 2025 : تنخواہ داروں نے کتنا انکم ٹیکس ادا کیا ۔۔؟ تفصیلات سامنے آگئیں
قائداعظم کی تاریخی تقریر
اس لئے انہوں نے 11 اگست 1947ء کو پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کا افتتاح کرتے ہوئے وہ تاریخی تقریر کی تھی جس میں آئین سازی کے لئے بنیادی ڈھانچہ فراہم کیا اور کہا کہ پاکستان کوئی مذہبی ریاست نہیں ہو گی۔ آئین اور قانون کے مطابق چلنے والا ایک ملک ہو گا جہاں فیصلے مذہبی بنیادوں پر نہیں آئین، قانون، انسانی اور شہری حقوق کی بنیادوں پر ہوں گے اور ہر شہری کو مندر، مسجد یا چرچ جانے کی آزادی ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: ایچی سن کالج میں جونیئر نیشنل ٹینس چیمپئن شپ 2025 کا شاندار آغاز
قرارداد مقاصد کا پس منظر
قرارداد مقاصد کہاں سے آئی……؟ کیا قائداعظم کو قرارداد مقاصد کا علم تھا یا اُن کی زندگی میں اس قرارداد کو کیوں نہ پیش کیا گیا؟ قرارداد مقاصد کا پس منظر یہ ہی ہے کہ جن علماء کرام نے نظریہ پاکستان کی مخالفت کی تھی اُنہوں نے قائداعظمؒ کی وفات کے بعد یہ قرارداد مرتب کر کے آئین میں شامل کرا دی۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں حکومت کے حوالے سے 2 بڑی جماعتوں میں کیا کوئی ’’معاہدہ‘‘ ہوا تھا۔؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں۔
پاکستان کا قانونی ڈھانچہ
اگر ہم آئینی ڈھانچہ کو آج بھی قائداعظم کے نظریات کے مطابق ڈھال لیں تو پاکستان پرامن اور خوشحال ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر اُبھرے گا مگر ہم نے اس شاندار ملک کو مذہبی ریاست بنا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے سلامتی کونسل کو خط میں کیا لکھا ۔۔۔؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں
بین الاقوامی تناظر
دُنیا میں اسرائیل، آئرلینڈ اور پاکستان تین ہی مذہبی بنیادوں پر بننے والے ممالک ہیں۔ اسرائیل کی پشت پناہی اگر امریکہ نہ کرے تو اسرائیل دو ہفتے بھی قائم نہیں رہ سکتا۔ آئرلینڈ کے بارے میں بھی ماہرین یہی کہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سینئر صحافی عمر چیمہ کی والدہ کا انتقال، وزیر اعلیٰ مریم نواز کا اظہار افسوس
شہری حقوق اور جمہوریت
ہمارا پاکستان…… شہری جمہوری آزادیوں اور بنیادی حقوق کی بنیاد پر وجود میں آنے والا ملک ہے۔ بابائے قوم کہتے ہیں کہ اس ملک میں جو لوگ بھی رہتے ہیں اُنہیں اپنے مذاہب کی آزادی ہے اور برابر کے شہری ہیں …… ہمیں یہ اصول تسلیم کرنا ہو گا۔ ہمارا قائم رہنا اسی پر انحصار کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اپنے قتل سے کچھ دیر پہلے ثنا یوسف نے کون سی ویڈیو اپ لوڈ کی تھی؟
عدالتوں کی ذمہ داری
یہ ہماری عدالتوں پر منحصر ہے کہ جس طرح مولوی تمیز الدین کیس میں فیصلہ کیا گیا کیا یہ درست تھا……؟ اصل ایشو یہ تھا کہ کیا گورنر جنرل کو اسمبلی توڑنے کا اختیار تھا اور یہ کہاں سے آیا تھا……؟ اس پوائنٹ کا فیصلہ کئے بغیر کہہ دیا گیا کہ ٹھیک کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ساہیوال میں سوتیلے بیٹے نے ماں اور بہن کو تیل چھڑک کر آگ لگا دی
تاریخی فیصلے
ہماری عدالتوں نے خودبخود نظریہ ضرورت کی دلدل میں ٹانگ پھنسائی۔ اس کے بعد ایوب خان کے خلاف مقدمہ میں ”دو سو“ کیس آ گیا اور جنرل یحییٰ خان کے اقتدار میں نہ رہنے پر عدالت نے اُسے غدار اور سازش کر کے حکومت پر قبضہ کرنے والا قرار دیا جو عاصمہ جیلانی کیس میں مشہور ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: ڈی چوک میں پولیس کی شیلنگ – تازہ ترین صورتحال دریافت کریں
آخری خیالات
کاش عدالت میں اتنی جرأت ہوتی کہ وہ یحییٰ خان کی موجودگی میں یہ فیصلہ کرتی۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں نصرت بھٹو کیس کا فیصلہ اور پھر جنرل پرویزمشرف کے دور میں ظفر علی شاہ کیس میں عدالتی روئیے کیا درست ہیں۔ اس کا فیصلہ تاریخ کرے گی۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








