منفرد اسلوب کے شاعر جون ایلیا کو دنیا سے رخصت ہوئے 22 برس بیت گئے
جون ایلیا کی 22ویں برسی
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) منفرد اسلوب کے شاعر جون ایلیا کو دنیا سے رخصت ہوئے 22برس بیت گئے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ اسمبلی کی توانائی کمیٹی میں کے الیکٹرک پر شدید تنقید، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر برہمی کا اظہار
علمی و ادبی پس منظر
بھارت کے شہر امروہہ کے ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہونے والے جون ایلیا عربی، فارسی اور انگریزی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے قدامت پسندی کو چیلنج کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں سال 2025 کے دوران دہشت گردی کے 940 واقعات ، 745 دہشت گرد مارے گئے
شاعری کا نیا انداز
اقدار شکن، باغی، تیکھا مزاج اور حساس طبعیت کے مالک جون نہ صرف غزل کہتے تھے بلکہ خود ہی غزل بن جاتے تھے۔ ان کی شاعری نے اردو ادب کو نیا رنگ دیا، اور آج بھی ان کے فلسفے کی گونج زندہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ائیرپورٹ پر غیر ملکی ائیر لائن کا طیارہ لینڈنگ کے دوران ہولناک حادثے سے بچ گیا
شعری مجموعے اور اثر
جون ایلیا کے شعری مجموعوں میں ’’شاید‘‘، ’’گویا‘‘ اور ’’گمان‘‘ شامل ہیں۔ ان کی زندگی کی تلخیاں ان کی شاعری میں جا بجا بکھری ہوئی ہیں، اور ان کے اشعار ہر دور میں سامعین کے دلوں کو چھو جاتے ہیں۔
مقبولیت اور یادگار شاعری
آج 22سال گزر جانے کے باوجود جون ایلیا کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے، اور وہ اپنی شاعری کے ذریعے ہمیشہ یاد رہیں گے۔








