9 سال سے لاپتہ ایم کیو ایم لندن کے کارکن کو ہر ممکن تلاش کرنے کا حکم
سندھ ہائیکورٹ کا حکم
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)سندھ ہائیکورٹ نے پولیس کو 9 سال سے لاپتہ ایم کیو ایم لندن کے کارکن کو ہر ممکن تلاش کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان زندہ باد کے نعروں کی دنیا بھر میں گونج
گمشدگی کا مقدمہ
عدالت میں سرکاری ملازم ثاقب آفریدی کی 2015 سے گمشدگی کے کیس کی سماعت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ہائی کمیشن نے پاکستان کو دریاؤں میں سیلاب سے متعلق نئی وارننگ جاری کر دی
جسٹس صلاح الدین کا سوال
جسٹس صلاح الدین استفسار کیا کہ ثاقب آفریدی 2015 سے لاپتہ ہے، 9 سال ہو گئے، کیا وہ کسی کیس میں پولیس کو مطلوب تھا کہ روپوش ہو گیا؟
یہ بھی پڑھیں: ساہیوال، نوکری کا جھانسہ دیکر سوشل میڈیا انفلوئنسر اور ساتھی نے نوجوان خاتون کا گینگ ریپ کردیا
تفتیشی افسر کی وضاحت
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ 1998 میں ثاقب آفریدی کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا لیکن وہ مقدمے سے بری ہو گیا تھا، شہری روپوش نہیں گم ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز کا 22 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
درخواست گزار کی جانب سے بیان
درخواست گزار کے وکیل عبداللطیف پاشا ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ثاقب آفریدی کراچی ہسپتال میں ملازمت کرتا تھا، جب لوگوں کو اٹھانے کی لہر چلی تو اس کو بھی اٹھا لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: یورپی یونین آبزرویشن مشن نے بنگلہ دیش میں عام انتخابات سے قبل کے ماحول پر اپنی رائے کا اظہار کر دیا
ایم کیو ایم کا تعلق
جسٹس صلاح الدین نے پوچھا کہ کیا ثاقب آفریدی کا تعلق ایم کیو ایم سے تھا؟ اس سوال پر پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ لاپتہ شہری کا تعلق ایم کیو ایم لندن سے تھا۔
یہ بھی پڑھیں: 72سالہ ہالی ووڈ اداکار لیام نیسن، پامیلا اینڈرس کی محبت میں گرفتار، اظہار کردیا
وجۂ گمشدگی کی وضاحت
جسٹس صلاح الدین نے استفسار کیا کہ وجہ کیا ہے؟ شہری کو کیوں اٹھایا ہوا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل عبداللطیف پاشا ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ ان کی مرضی! وہ جس کو چاہے اٹھا لیں۔
عدالت کی ہدایت
عدالت نے لاپتہ شہری کو تلاش کرنے کا حکم دے دیا اور تفتیشی افسر کو یہ ہدایت کی کہ معاملے پر پیش رفت رپورٹ متعلقہ مجسٹریٹ کو دیں۔








