9 سال سے لاپتہ ایم کیو ایم لندن کے کارکن کو ہر ممکن تلاش کرنے کا حکم
سندھ ہائیکورٹ کا حکم
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)سندھ ہائیکورٹ نے پولیس کو 9 سال سے لاپتہ ایم کیو ایم لندن کے کارکن کو ہر ممکن تلاش کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: 4 روز میں 50 دہشتگردوں کی ہلاکت سیکیورٹی فورسز کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے: صدر مملکت
گمشدگی کا مقدمہ
عدالت میں سرکاری ملازم ثاقب آفریدی کی 2015 سے گمشدگی کے کیس کی سماعت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی بحریہ کی نقل و حرکت پر پاک بحریہ کی کڑی نظر ہے، سیکیورٹی ذرائع
جسٹس صلاح الدین کا سوال
جسٹس صلاح الدین استفسار کیا کہ ثاقب آفریدی 2015 سے لاپتہ ہے، 9 سال ہو گئے، کیا وہ کسی کیس میں پولیس کو مطلوب تھا کہ روپوش ہو گیا؟
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رہنماؤں کو 9 مئی کے مقدمات میں سزائیں، سربراہ پلڈاٹ بلال محبوب کا اہم بیان
تفتیشی افسر کی وضاحت
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ 1998 میں ثاقب آفریدی کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا لیکن وہ مقدمے سے بری ہو گیا تھا، شہری روپوش نہیں گم ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: سمگل شدہ پٹرول فروخت کرنے والے صوبے میں 176 پمپس سیل کرنے کا حکم
درخواست گزار کی جانب سے بیان
درخواست گزار کے وکیل عبداللطیف پاشا ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ثاقب آفریدی کراچی ہسپتال میں ملازمت کرتا تھا، جب لوگوں کو اٹھانے کی لہر چلی تو اس کو بھی اٹھا لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سابق صدر عارف علوی کا کلینک سیل کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار
ایم کیو ایم کا تعلق
جسٹس صلاح الدین نے پوچھا کہ کیا ثاقب آفریدی کا تعلق ایم کیو ایم سے تھا؟ اس سوال پر پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ لاپتہ شہری کا تعلق ایم کیو ایم لندن سے تھا۔
یہ بھی پڑھیں: محمد بن سلمان جنگ جاری رکھنے کے لیے ٹرمپ پر دباؤ ڈال رہے ہیں، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ
وجۂ گمشدگی کی وضاحت
جسٹس صلاح الدین نے استفسار کیا کہ وجہ کیا ہے؟ شہری کو کیوں اٹھایا ہوا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل عبداللطیف پاشا ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ ان کی مرضی! وہ جس کو چاہے اٹھا لیں۔
عدالت کی ہدایت
عدالت نے لاپتہ شہری کو تلاش کرنے کا حکم دے دیا اور تفتیشی افسر کو یہ ہدایت کی کہ معاملے پر پیش رفت رپورٹ متعلقہ مجسٹریٹ کو دیں۔








