کالعدم بی ایل اے کے دہشتگرد طلعت عزیز نے ہتھیار ڈال دیے، سنسنی خیز انکشافات
طلعت عزیز کا اعتراف
کوئٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) کالعدم تنظیم بی ایل اے چھوڑنے والے طلعت عزیز نے کہا ہے کہ مجھے قائل کیا گیا کہ معصوموں کو قتل کروں، مجھے کہا گیا پہاڑوں پر نئی زندگی ملے گی۔
یہ بھی پڑھیں: 26 نومبر احتجاج، انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے علیمہ خان کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا
ذہن سازی کا عمل
کوئٹہ میں صوبائی حکام کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بلوچ یک جہتی کمیٹی کے احتجاج میں میری ذہن سازی کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان میں حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم کا قوم کے نام خط سامنے آ گیا
بی ایل اے کے خطرناک منصوبے
طلعت عزیز نے کہا کہ میری طرح پہاڑوں پر اور بھی نوجوان موجود تھے، بی ایل اے کے لوگ کیمپوں میں بیٹھ کر پنجابیوں کو مارنے کی منصوبہ بندی کرتے تھے، بی ایل اے سے پوچھا کہ آپ یہ سب کیا کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکنو نے جدید کیمرہ فیچرز کے ساتھ CAMON 50 Pro پاکستان میں متعارف کروادیا
ملک توڑنے کی سازش
انہوں نے کہا کہ بی ایل اے والے ملک توڑنے کی سازش کر رہے تھے، جب پہاڑوں پر یہ سب دیکھا تو بھاگنے کا منصوبہ بنایا، اپنے تمام بلوچ بہن بھائیوں سے کہتا ہوں ایسی باتوں میں نہ آئیں۔
یہ بھی پڑھیں: پٹوار سرکل میں نجی افراد کے کام کرنے کی خلاف کیس ؛ عدالت کی ڈپٹی کمشنر کو 7 روز میں متعلقہ آسامیاں پر کرنے کی ہدایت
تعلیم اور امن کی ضرورت
طلعت عزیز نے کہا کہ بلوچ یک جہتی کمیٹی کے جلسوں میں ذہن سازی کر کے گمراہ کیا جاتا ہے، میں پنجاب سے تعلیم حاصل کر رہا ہوں۔
ہم سب کا پیغام
انہوں نے کہا کہ میری پنجابیوں سے کوئی دشمنی نہیں، میں اپنے بلوچ بہن بھائیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ دہشت گردوں کے بہکاوے میں نہ آئیں۔








