لوگ ہوتے ہوئے آباد بھی آباد نہیں …
خوشی کا فقدان
کیسا آسیب ہے بستی میں کوئی شاد نہیں
لوگ ہوتے ہوئے آباد بھی آباد نہیں
یہ بھی پڑھیں: ایران کے پاس کیا آپشنز ہیں اور طویل جنگ ہوئی تو کیا ہوگا؟ الجزیرہ کی تہلکہ خیز رپورٹ آگئی
مقدر اور شکوے
جو بھی مل جائے مقدر کا لکھا مانتے ہیں
کوئی شکوہ نہیں کرتے کوئی فریاد نہیں
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی آبی جارحیت، دریائے چناب میں پانی کی آمد روک دی
مشکلات کا تسلسل
مشکلیں ایک تواتر سے چلی آتیں ہیں
تم کو لگتا ہے کہ ہم پر کوئی افتاد نہیں
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے ایران پر حملے پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بیان جاری کر دیا
محکومیت کا احساس
ہم کو محکوم سمجھتے ہو ہمیں ہے معلوم
تم کو لگتا ہے کہ ہم شاد ہیں برباد نہیں
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں ایک بار پھر واٹر ایمرجنسی نافذ
منافع کا فقدان
کام کوئی بھی منافع میں نہیں ہے اپنا
ہر طرف صرف خسارہ ہے کوئی شاد نہیں
یہ بھی پڑھیں: کروڑوں روپے کے سینکڑوں قیمتی موبائل فون بلوچستان سے کراچی اسمگل کرنے کے دوران پکڑے گئے
آزادی کی غلط فہمی
خود کو آزاد سمجھتے ہیں وطن میں اپنے
یہ غلط فہمی ہے جیسے کوئی صیاد نہیں
یہ بھی پڑھیں: گورنر ہاؤس کراچی کے دروازے اب ہر کسی کے لیے کھلے ہیں، کوئی بھی شخص اپنا مسئلہ لے کر آ سکتا ہے
مہنگائی کا عذاب
ایسی مہنگائی ہے محشر کا سماں لگتا ہے
کب یہ بحران ٹلے گا کوئی معیاد نہیں
یہ بھی پڑھیں: مریم اورنگ زیب اور خواجہ سلمان رفیق کا شجاع آباد بائی پاس اور گردیز نالے کے علاقوں کا دورہ
ملک کی حالت
لوٹ کر سارا وطن تم جو ہڑپ کر بیٹھے
اور دیکھو تو تمھاری کوئی تعداد نہیں
شکوے کی تلاش
کس سے شکوہ کروں ثقلین کہاں دستک دوں
وہ ہیں سفاک فقط کام میں استاد نہیں








