سموگ کنٹرول کرنے سے متعلق اقدامات کرنے میں حکومتی محکمے ناکام ہیں،لاہور ہائیکورٹ کے ریمارکس
لاہور ہائیکورٹ کے ریمارکس
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سموگ تدارک کیلئے درخواستوں پر لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سموگ کنٹرول کرنے سے متعلق اقدامات کرنے میں حکومتی محکمے ناکام ہیں۔ دو ماہ پہلے سموگ کی صورتحال ابتر ہو چکی ہے، ہمارے بچے، ہم سب کی زندگیوں کا معاملہ ہے لیکن ادارے کردار ادا نہیں کررہے۔
یہ بھی پڑھیں: ترمیم کا مقصد فیلڈ مارشل کے عہدے کو تحفظ دینا اور فیصلہ سازی میں ان کا کردار بڑھانا ہے، محسن بیگ
عدالت کا سماعت کا عمل
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں سموگ تدارک کیلئے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی، جسٹس شاہد کریم نے درخواستوں پر سماعت کی۔ وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں، نیازی اڈے سمیت دیگر چار بس اڈوں پر کارروائیاں کی گئی ہیں۔ جسٹس شاہد کریم نے استفسار کیا کہ بس سٹینڈ پر گاڑیوں کو چیک کرنے کا طریقہ کار کیا ہے؟
یہ بھی پڑھیں: سی ایس ایس 2026 کا امتحان دینے کے خواہش مندوں کے لئے خوش خبری
حکومتی اداروں کی ناکامی
عدالت نے کہا کہ ٹرانسپورٹ محکمے سے کوئی عدالت میں موجود نہیں، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بھی عدالت میں موجود نہیں تھے۔ جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ یہ اس طرح حکومت معاملے کو سنجیدہ لے رہی ہے؟ہم دو سال سے سموگ سے متعلق احکامات دے رہے ہیں، کیا محکمہ ٹرانسپورٹ سویا ہوا تھا؟
یہ بھی پڑھیں: ایران پر حملہ، امریکہ نے اپنی فوج کو بڑا حکم دے دیا، نیا خطرہ پیدا ہوگیا
حکومتی اقدامات کا فقدان
لاہور ہائیکورٹ نے مزید کہا کہ سموگ کنٹرول کرنے میں حکومتی محکمے ناکام رہے ہیں۔ دو ماہ پہلے سموگ کی صورتحال ابتر ہو چکی ہے، ہمارے بچے، ہم سب کی زندگیاں خطرے میں ہیں لیکن ادارے کردار ادا نہیں کررہے۔
یہ بھی پڑھیں: عافیہ صدیقی سے عمران خان تک: قید کا جواز ؟
ایڈووکیٹ جنرل کی عدم موجودگی
عدالت نے کہا کہ جب آپ نے بائیکس کا اعلان کیا اور میں نے آرڈر پاس کیا تو سب نے باتیں کیں، اب صورتحال دیکھیں باہر جا کر۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو خود عدالت ہونا چاہئے تھا، میں بہت ناامیدہوا ہوں، جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل کو یہاں ہونا چاہئے تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان خرابی صحت کے باعث طویل رخصت پر چلے گئے
چیف سیکرٹری پنجاب کا سوال
عدالت نے استفسار کیا کہ چیف سیکرٹری پنجاب کہاں ہیں؟ وکیل درخواستگزار نے کہا کہ وہ جنیوا میں ہیں، عدالت نے کہا کہ ایکٹنگ چیف سیکرٹری کہاں ہیں، یہ صوبہ چل کیسے رہا ہے؟ پچھلے سال میں آرڈر کئے تھے، ان دو ماہ میں تعمیراتی کام نہیں ہونا چاہئے، اس کے بارے میں کچھ کیا گیا ہے؟ سکول بند کر دیئے گئے، کنسٹرکشن کا کام بند کرایا گیا؟ ہر جگہ کنسٹرکشن کا کام چل رہا ہے، پچھلے دو سال سے ہم آرڈرز کررہے ہیں، کوئی بھی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے گئے۔
سموگ سیزن کے خطرات
عدالت نے کہا کہ حکومتی ادارے مناسب انتظامات کرنے میں ناکام رہے، میں نے چھ ماہ پہلے سے کہنا شروع کیا سموگ سیزن آنے سے پہلے اقدامات کریں، بارہا کہا کہ سموگ آ گئی تو اس کے بعد کچھ نہیں کر سکیں گے۔








