حکومت کا وی پی این سروسز بلاک کرنے کا تجربہ، کاروباری اداروں کا اظہار تشویش
حکومت کی جانب سے وی پی این سروسز کی عارضی بندش
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت نے اتوار کے روز ملک بھر میں 6 گھنٹے کیلئے 20 سے زائد وی پی این سروسز کو عارضی طور پر بلاک کیا جس کے باعث صارفین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سپر لیگ 11 کے نئے شیڈول کا اعلان کر دیا گیا
وی پی این سروسز کی بندش کا وقت
تفصیلات کے مطابق وی پی این سروسز اتوار کی شام 4 بجے سے رات 10 بجے بند رہیں۔ حکومتی حکام نے اس تجربے کو کامیاب قرار دیا لیکن موجودہ انفراسٹرکچر میں مشکلات کا بھی ذکر کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا پبلک ٹرانسپورٹ سے محروم 17 اضلاع میں فری ٹرانسپورٹ چلانے کا فیصلہ
کاروباری اداروں کے تحفظات
اس عارضی بندش پر وی پی این پر انحصار کرنے والے کاروباری اداروں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ وی پی این ان کے لئے محفوظ اور خفیہ کمیونیکیشن کا ایک اہم ذریعہ ہے اور اس طرح کی پابندیاں کاروباری سرگرمیوں میں خلل ڈال سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکہ جنگ، کیا مذاکرات کامیاب ہوپائیں گے؟ ویڈیو تجزیہ
مستقبل میں مزید اقدامات
دوسری جانب حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسے مزید اقدامات کیے جا سکتے ہیں، حکام نے غیر رجسٹرڈ وی پی این صارفین کو خبردار کیا کہ انہیں مستقبل میں بلاک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
رجسٹریشن کی ہدایت
کاروباری اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے وی پی این سروسز کو حکومت کے ساتھ رجسٹر کرائیں تاکہ وہ بلا رکاوٹ خدمات حاصل کر سکیں۔








