حزب اللہ کا حملہ، اسرائیلی وزیر اعظم کا دفتر تہہ خانے میں منتقل
نیتن یاہو کی سیکیورٹی اقدامات
یروشلم (ڈیلی پاکستان آن لائن )گزشتہ ماہ حزب اللہ کے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی رہائشگاہ پر حملے کے بعد نیتن یاہو نے اپنا دفتر بالائی منزل سے تہہ خانے میں منتقل کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: نیپال میں پرتشدد مظاہرے، پارلیمنٹ، سپریم کورٹ اور متعدد وزراء کے گھروں کو آگ لگا دی گئی
خاندانی تقریبات کا اثر
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے حزب اللہ کے حملوں کے خوف سے بیٹے کی شادی بھی غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی۔
یہ بھی پڑھیں: یہ پاکستان کی فتح ہے، جو بھی جذبات مجروح ہوئے ہیں اب ٹیم کارکردگی دکھائے، رمیز راجہ
عدلیہ کے مسائل
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا عدالت میں کیسز میں بھی پیش نہ ہونے کا امکان ہے۔ پہلے، نیتن یاہو نے لبنان میں پیجر ڈیوائس دھماکوں اور حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ پر حملے کا اعتراف کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ایک چیز واضح ہے القادر کیس میں ضمانت ہو جائے تو عمران خان رہا ہو جائیں گے، علیمہ خان
حملوں کی ذمہ داری
اسرائیلی نیوز ویب سائٹ کے مطابق نیتن یاہو نے کہا کہ حزب اللہ کی کمیونیکیشن ڈیوائس میں دھماکوں اور حسن نصراللہ پر حملوں کے پیچھے اسرائیل تھا۔ یہ پہلی بار ہے کہ کسی اسرائیلی عہدیدار نے لبنان میں پیجر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ نیتن یاہو نے گزشتہ ہفتے وزیر دفاع کو عہدے سے ہٹانے کے بعد آج اسرائیلی کابینہ کے پہلے اجلاس میں حملوں کا اعتراف کیا۔
کابینہ کے اجلاس میں گفتگو
اسرائیلی وزیراعظم نے کابینہ اراکین کو بتایا کہ انہوں نے حملوں پر اصرار کیا تھا جبکہ سابق وزیر دفاع حملوں کے مخالف تھے۔ خیال رہے کہ 17 ستمبر کو لبنان کے مختلف علاقوں میں پیجر ڈیوائسز میں دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوگئے تھے۔








