حزب اللہ کا حملہ، اسرائیلی وزیر اعظم کا دفتر تہہ خانے میں منتقل
نیتن یاہو کی سیکیورٹی اقدامات
یروشلم (ڈیلی پاکستان آن لائن )گزشتہ ماہ حزب اللہ کے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی رہائشگاہ پر حملے کے بعد نیتن یاہو نے اپنا دفتر بالائی منزل سے تہہ خانے میں منتقل کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: 2005ء میں سپر پارسل ایکسپریس ملیر پل عبور کرتے ہوئے حادثہ
خاندانی تقریبات کا اثر
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے حزب اللہ کے حملوں کے خوف سے بیٹے کی شادی بھی غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی۔
یہ بھی پڑھیں: کچے میں ڈاکوؤں کیخلاف پولیس کی بڑی تیاری، سندھ حکومت نے کروڑوں روپے جاری کر دیئے
عدلیہ کے مسائل
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا عدالت میں کیسز میں بھی پیش نہ ہونے کا امکان ہے۔ پہلے، نیتن یاہو نے لبنان میں پیجر ڈیوائس دھماکوں اور حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ پر حملے کا اعتراف کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آئندہ ہفتہ کیسا گزرے گا؟
حملوں کی ذمہ داری
اسرائیلی نیوز ویب سائٹ کے مطابق نیتن یاہو نے کہا کہ حزب اللہ کی کمیونیکیشن ڈیوائس میں دھماکوں اور حسن نصراللہ پر حملوں کے پیچھے اسرائیل تھا۔ یہ پہلی بار ہے کہ کسی اسرائیلی عہدیدار نے لبنان میں پیجر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ نیتن یاہو نے گزشتہ ہفتے وزیر دفاع کو عہدے سے ہٹانے کے بعد آج اسرائیلی کابینہ کے پہلے اجلاس میں حملوں کا اعتراف کیا۔
کابینہ کے اجلاس میں گفتگو
اسرائیلی وزیراعظم نے کابینہ اراکین کو بتایا کہ انہوں نے حملوں پر اصرار کیا تھا جبکہ سابق وزیر دفاع حملوں کے مخالف تھے۔ خیال رہے کہ 17 ستمبر کو لبنان کے مختلف علاقوں میں پیجر ڈیوائسز میں دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوگئے تھے۔








