پاکستان کی ادبی شخصیت اور ماہر تعلیم ڈاکٹر اسامہ صدیق کے ساتھ انٹرایکٹو سیشن کا انعقاد
پاکستان کی ادبی شخصیت کا انٹرایکٹو سیشن
دبئی (طاہر منیر طاہر) سفارت خانہ پاکستان، ابوظہبی نے پاکستان کی ممتاز ادبی شخصیت، اسکالر، مصنف اور ماہر تعلیم ڈاکٹر اسامہ صدیق کے ایک انٹرایکٹو سیشن کی میزبانی کی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو جیل میں سہولیات کی مبینہ عدم فراہمی کیخلاف عدالت سے رجوع کرلیا
ڈاکٹر اسامہ صدیق کا تعارف
ڈاکٹر اسامہ صدیق اردو اور انگریزی دونوں افسانوں میں اپنی خدمات کے لیے جانے جاتے ہیں اور اس سے قبل لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) میں قانون کے پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت جنگ کے روز مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف کہاں تھے؟
نظامت کا عمل
محترمہ صباء کریم خان، پاکستانی ڈائاسپورا کی ایک ممتاز رکن، مصنفہ اور ابوظہبی میں نیویارک یونیورسٹی میں انسٹرکٹر نے سیشن کی نظامت کی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ڈی ایم اے پنجاب کا اہم اجلاس، انٹیگریٹڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ سسٹم کی منظوری دیدی گئی
سفیر کی موجودگی
تقریب میں سفیر فیصل نیاز ترمذی نے شرکت کی اور ماہرین تعلیم، بینکرز، ڈاکٹرز اور بزنس مین ڈاکٹر اسامہ صدیق سمیت پاکستانی پیشہ ور افراد کے ایک بڑے اجتماع نے اپنی ابتدائی زندگی، تعلیم اور ادب کی طرف دلچسپی پیدا کرنے میں خاندان کے افراد کے کردار کے بارے میں بیان کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا یحییٰ سنوار کی زندگی کے آخری لمحات نے انھیں غزہ کا ‘ہیرو’ بنا دیا؟
ادبی ورثے پر روشنی
ڈاکٹر اسامہ صدیق نے پاکستان سمیت برصغیر کے بھرپور ادبی ورثے پر روشنی ڈالی اور اردو، انگریزی اور دیگر علاقائی زبانوں میں ادب کی ترقی میں پاکستان کے نامور ادیبوں کے اہم کردار کو یاد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے صدر کا عہدہ سنبھالنے سے قبل غیر قانونی تارکین کے بارے بڑا اعلان کر دیا
بچوں کی تعلیم پر زور
سوالات کے جوابات دیتے ہوئے، ڈاکٹر اسامہ صدیق نے بچوں کو ان کے ابتدائی سالوں سے ہی پڑھنے شروع کرنے کے لیے رہنمائی کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور بچوں کو پڑھنے کی طرف راغب کرنے کے لیے اگر ضرورت ہو تو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا مشورہ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: حیدر آباد میں قومی شاہراہ پر بس نے رکشہ کو ٹکر مار دی، 2 افراد جاں بحق ، 6زخمی
پاکستانی مصنفین کی اہمیت
انہوں نے کہا کہ پاکستانی مصنفین جو اپنی قومی اور علاقائی زبانوں کو ادب کے ذریعے پیش کرتے ہیں، انہیں پہلے قومی سطح پر تسلیم کیا جانا چاہیے اور بعد کے مرحلے میں ان کے کام کا عربی اور انگریزی سمیت دنیا کی دیگر زبانوں میں ترجمہ کیا جانا چاہیے۔
اختتام اور بات چیت
سیشن کا اختتام ڈاکٹر اسامہ صدیق اور کمیونٹی کے اراکین کے درمیان بات چیت کے ساتھ ہوا۔








