بانی پی ٹی آئی کی کال پر ادارے کریک ڈاؤن کر سکتے ہیں: رانا ثنا اللہ
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی جس قسم کی کال دے رہے ہیں اُس کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کریک ڈاؤن کی کھلی چھوٹ ملے گی۔ پھر اُس کے بعد یہ روئیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کرک میں بارش سے تباہی، طغیانی کے باعث 2 افراد پانی میں بہہ گئے
لوگوں کی رائے
جیو نیوز کے پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے رانا ثناء نے کہا کہ لوگ افراتفری اور انتشار کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کی کال پر کوئی نہیں نکلے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر علی امین گنڈاپور سر سے کفن باندھ کر آنا چاہتے ہیں تو پہلے استعفیٰ دیں۔ بانی پی ٹی آئی جب تک ہٹ دھرمی کی پالیسی ختم کرکے سیاسی جماعتوں کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے، ان کے لیے کوئی راستہ نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہوریوں کے لیے مریم نواز کا تحفہ، 13 اگست کو لبرٹی چوک میں میوزیکل کنسرٹ کا انعقاد
بانی پی ٹی آئی کی گفتگو پر تبصرہ
رانا ثناء نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی جس طرح کی گفتگو کر رہے ہیں یہ اپنے کارکنوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ کفن باندھنے اور جنازہ پڑھنے کی باتیں کیوں؟ کہہ دیتے کہ مطالبات کے لیے پرامن احتجاج کریں گے، طاقت کے استعمال پر اجارہ داری ریاست کی ہے، کسی گروہ یا جماعت کی نہیں ہوسکتی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس سال شیڈول ایشیا کپ نہ ہونے کا امکان
احتجاج کے طریقے
انہوں نے کہا کہ کفن باندھنے اور جنازے پڑھنے کی بات کے بعد کیا کوئی پھول لے کر کھڑا ہو؟ ہم نے اپنے احتجاج میں کبھی دھرنے دینے یا تشدد کی بات نہیں کی۔ رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے ہمیں ختم کروانا چاہتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے آسٹریلیا کو نو وکٹوں سے شکست دی: حارث ایڈیلیڈ میں شاندار کارکردگی دکھائی، صائم ایوب کا کمال کھیل
سیاسی حالات کا تجزیہ
بانی پی ٹی آئی کا باجوہ سے جھگڑا اس بات پر تھا کہ اپوزیشن کو ختم کریں، باجوہ نے ساتھ نہیں دیا تو کہنا شروع کردیا کہ یہ میر جعفر اور میر صادق ہیں، کسی کو نہیں چھوڑوں گا، کہہ کر اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ خود بھی مشکل میں ہیں اور ملک بھی مشکل کا شکار ہے۔
مستقبل کی حکمت عملی
رانا ثناء نے کہا کہ اگر ان کی حکمت عملی سڑکوں کی ہے تو ناکامی کا ہی سامنا ہوگا، کیونکہ پی ٹی آئی کی حکمت عملی سیاسی جماعت والی ہے ہی نہیں۔








