اقوام عالم کو طویل تنازعات، اقتصادی عدم استحکام اور موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز درپیش ہیں:محسن نقوی کا بڈاپیسٹ پراسس کی ساتویں وزارتی کانفرنس سے خطا
وفاقی وزیر داخلہ کی شرکت
بڈاپیسٹ، ہنگری (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہنگری میں بڈاپیسٹ پراسس کی ساتویں وزارتی کانفرنس میں شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: اتحاد تنظیمات مدارس اور حکومت کا 2019 کا معاہدہ سامنے آگیا
خطاب میں اہم مسائل
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے بڈاپیسٹ پراسیس کی ساتویں وزارتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2019 میں منعقدہ آخری وزارتی کانفرنس کے بعد سے متعدد اہم پیش رفت ہوچکی ہیں، آج ہمیں بہت سے اہم مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آج اقوام عالم کو طویل تنازعات، اقتصادی عدم استحکام اور موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز درپیش ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا قومی اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترمیم کے عمل کا حصہ نہ بننے کا اعلان
چیلنجز کا سامنا
ان چیلنجز نے دنیا بھر میں امیگریشن کے بہاؤ کو نئی شکل دی ہے، جس کی وجہ سے پیچیدہ چیلنجز جنم لے رہے ہیں جن سے کوئی ایک ملک اکیلے نمٹ نہیں سکتا۔ محسن نقوی نے کہا کہ ان چیلنجز پر قابو پانے کے لیے جامع بین الاقوامی حکمت عملی کی ضرورت ہے، صرف علامتی نہیں بلکہ بے قاعدہ امیگریشن کی بنیادی وجوہات کا حل ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ ؛سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری
قانونی اور انتظامی اقدامات
غیر قانونی امیگریشن کو روکنے کے لیے پاکستان نے متعدد قانونی اور انتظامی اقدامات کیے ہیں۔ پاکستان نے اپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انسانی سمگلنگ میں ملوث مجرموں کے خلاف مؤثر طریقے سے قانونی چارہ جوئی کرنے کے لیے بااختیار بنایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک، بھارت اصل مسئلہ دہشتگردی نہیں خطے کی غربت اور کشمیریوں کے حقوق کو تسلیم نہ کیا جانا ہے، دل سے ایک دوسرے کو آزاد ممالک تسلیم کرنا ہو گا
عوامی آگاہی اور تعاون
انہوں نے انسانی سمگلنگ کے خطرات کے بارے میں عوامی آگاہی بڑھانے، سرحدی کنٹرول کو مضبوط بنانے اور علاقائی و بین الاقوامی تعاون کو بڑھانے پر زور دیا۔ قانونی امیگریشن کو فروغ دینے کے لیے یورپی یونین اور دیگر ممالک کے ساتھ دو طرفہ معاہدوں اور ٹیلنٹ پارٹنرشپ کو بڑھانے کے لیے بھر پور کوششیں کی جارہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت میں بڑی کمی
تارکین وطن مخالف جذبات
محسن نقوی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں تارکین وطن مخالف جذبات میں پریشان کن اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک نیا اہم چیلنج سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا چین امریکی قرض کو تجارتی جنگ میں بطور ہتھیار استعمال کر سکتا ہے؟ اگر ایسا ہوا تو کیا ہوگا؟
بڈاپیسٹ اعلامیہ کی امید
انہوں نے امید ظاہر کی کہ بڈاپیسٹ اعلامیہ کو اپنانے سے ایک متوازن نقطہ نظر کے لیے ایک نئی جہت پیدا ہوگی، مگر اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مستقبل میں امیگریشن کے کسی ایک پہلو کو دوسرے پر ترجیح نہ دی جائے۔
ختم کلام
محسن نقوی نے کہا کہ وہ بڈاپیسٹ پراسس کے ساتھ تعمیری اور باہمی طور پر فائدہ مند تعاون کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے اس انتہائی اہم اجلاس سے خطاب کو اپنے لیے باعث اعزاز قرار دیا اور شریک میزبان ترکیہ اور ہنگری کو مبارکباد دی۔ بڈاپیسٹ کے خوبصورت اور تاریخی شہر میں پرتپاک استقبال پر ہنگری کی حکومت اور عوام کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
بین الاقوامی سنٹر برائے مائیگریشن پالیسی ڈویلپمنٹ کو اس اجلاس کے انعقاد کے لیے بھرپور کوششوں پر مبارکباد بھی دی۔








